ایران کے پاس اب بھی مذاکرات کی میز پر آنے کا موقع ہے: امریکی وزیرِ جنگ
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا دائرہ وسیع کر کے عالمی سطح تک پھیلا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اب بھی مذاکرات کی میز پر آنے اور سمجھداری سے فیصلہ کرنے کا موقع موجود ہے، ایران معاہدہ کر لے ورنہ اسے مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی وزیرِ جنگ نے جمعے کو نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی روز بروز مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک ایرانی بندرگاہوں سے آنے یا اس طرف جانے والے 34 بحری جہازوں کو روکا اور واپس بھیجا جا چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی ناکہ بندی اب عالمی سطح پر پھیل چکی ہے، جس کے تحت امریکی افواج نے ’انڈو پیسیفک‘ خطے میں ایران کے ’ڈارک فلیٹ‘ (خفیہ بحری بیڑے) کے دو ایسے جہاز بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں جو ناکہ بندی کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی ایرانی بندرگاہوں سے نکل چکے تھے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ بحری ناکہ بندی کو مضبوط بنانے کے لیے ہمارا دوسرا ایئر کرافٹ کیریئر بھی پہنچ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز امریکی کنٹرول میں ہے اور اس راستے سے کوئی بھی جہاز امریکا کی مرضی کے بغیر کہیں نہیں جائے گا۔
پینٹاگون میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول کی کسی بھی کوشش کو ترک کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق یہی وہ بنیادی شرط ہے جس پر کشیدگی میں کمی ممکن ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران کے پاس اب بھی مذاکرات کی میز پر آنے اور سمجھ داری سے فیصلہ کرنے کا موقع موجود ہے۔ انہیں صرف اتنا کرنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دستبردار ہو جائیں۔ گیند اب ایران کے کورٹ میں ہے اور ہمارے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے یہ راستہ اختیار نہ کیا تو اسے امریکی طاقت کے مسلسل دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ یہ دباؤ ایک طویل المدتی ناکہ بندی کی صورت میں جاری رہ سکتا ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا اس معاملے میں یورپ پر انحصار نہیں کر رہا، حالانکہ یورپ کی توانائی کی ضروریات کے پیش نظر آبنائے ہرمز کی امریکا سے زیادہ انہیں ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یورپ کو اس حوالے سے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔
صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پیت ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے مزید بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی گئی تو سختی سے نمٹا جائے گا، کیونکہ یہ اقدام براہ راست جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔