چین نے ایرانی جہاز سے متعلق ٹرمپ کے بیان کو بے بنیاد قرار دے دیا
چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں ایرانی کارگو جہاز کو چین کی جانب سے ممکنہ تحفہ قرار دیا گیا تھا اور کہا ہے کہ ایسے بیانات حقائق سے عاری ہیں۔ ایران سے متعلق جس کارگو جہاز کو امریکا نے روکا، اس کے حوالے سے چین کا نام لینا غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ چین اس قسم کے تمام دعوؤں اور قیاس آرائیوں کو مسترد کرتا ہے جو کسی ٹھوس شواہد پر مبنی نہ ہوں۔ ترجمان کے مطابق ایران سے متعلق جس کارگو جہاز کو امریکا نے روکا، اس کے حوالے سے چین کا نام لینا غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد ہے۔
ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں کے تحت ممالک کے درمیان معمول کی تجارتی سرگرمیوں کو بلا جواز نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو نہ صرف حقائق کے منافی ہوں بل کہ بین الاقوامی تعلقات میں کشیدگی کا باعث بھی بن سکتے ہوں۔
چینی حکام نے مزید کہا کہ چین ہمیشہ شفافیت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا حامی رہا ہے اور دیگر ممالک کے ساتھ اس کے تجارتی روابط مکمل طور پر قانونی اور معمول کے مطابق ہوتے ہیں۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کسی بھی قسم کے الزامات لگانے سے قبل ٹھوس شواہد پیش کرنا ضروری ہے تاکہ عالمی سطح پر اعتماد اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
خیال رہے کہ منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’سی این بی سی‘ کو انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے ایک ایسے جہاز کو قبضے میں لیا ہے جس میں موجود کچھ مشتبہ سامان چین کی جانب سے تحفے کے طور پر بھیجا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس جہاز سے برآمد ہونے والی چیزیں بہت اچھی نہیں تھیں اور اس معاملے نے سیکیورٹی خدشات کو جنم دیا۔
اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اس صورتِ حال پر حیران ہوئے ہیں، تاہم چین کے ساتھ موجودہ تعلقات اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی اچھی انڈراسٹیندنگ کے باعث وہ اس معاملے کو مکمل طور پر بگڑنے نہیں دینا چاہتے۔ ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ اگر چین نے ایران کو کسی بھی قسم کے ہتھیار فراہم کیے تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
اس حوالے سے سی این این کی ایک رپورٹ میں بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق چین آئندہ چند ہفتوں میں ایران کو جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
سی این این کے مطابق ذرائع نے بتایا ایران اس جنگ بندی کے وقفے کو استعمال کرتے ہوئے اپنے دفاعی نظام کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے اس مقصد کے لیے بعض غیر ملکی شراکت داروں کی مدد بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ کچھ رپورٹس میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ ہتھیاروں کی ترسیل کو تیسرے ممالک کے ذریعے چھپانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔