نظامِ شمسی میں 'پانچویں قوت' کی موجودگی کا انکشاف: ماہرینِ طبیعیات نے ہلچل مچا دی

یہ ممکنہ پانچویں قوت دراصل اس پراسرار مادے اورستاروں اور سیاروں کے درمیان ایک 'پل' کا کام کر سکتی ہے۔
شائع 26 اپريل 2026 01:27pm

سائنس دانوں نے کائنات کے بارے میں ایک نئی اور دلچسپ بحث چھیڑ دی ہے، جس میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہمارے کائنات کو چلانے والی چار معلوم قوتوں کے علاوہ ایک نامعلوم پراسرار ’پانچویں قوت‘ بھی موجود ہو سکتی ہے، جو کہکشاؤں کی ترتیب اور کائنات کے پھیلاؤ کے پیچھے چھپا اصل محرک ہو سکتی ہے۔

یہ خیال موجودہ فزکس کے لیے بہت اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ہماری کائنات کی سمجھ کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔

ناسا کے ماہرین کے مطابق، اس دریافت کے لیے ہمیں دور دراز کی کہکشاؤں کے بجائے اپنے نظامِ شمسی میں موجود شواہد پر توجہ دینی ہوگی۔

یہ تحقیق بتاتی ہے کہ ہم اب تک فطرت کی چار بنیادی قوتوں کو جانتے ہیں: کششِ ثقل، برقی مقناطیسیت ، مضبوط نیوکلیئر قوت اور کمزور نیوکلیئر قوت۔ یہ چاروں قوتیں کائنات کے زیادہ تر نظام کو کنٹرول کرتی ہیں، لیکن سائنس دانوں کے مطابق یہ کائنات کی مکمل وضاحت نہیں کرتیں۔

سائنسی ویب سائٹ سائنس ڈیلی کے مطابق ناسا کے ماہر طبیعات ڈاکٹر سلاوا جی تریشیف کا کہنا ہے کہ، کائنات کا تقریباً 95 فیصد حصہ ’ڈارک میٹر‘ اور ’ڈارک انرجی‘ پر مشتمل ہے، جسے آج تک کوئی نہیں دیکھ سکا۔

یہ ممکنہ پانچویں قوت دراصل اس پراسرار مادے اور ہمارے نظر آنے والے مادی جہان (ستاروں اور سیاروں) کے درمیان ایک ’پل‘ کا کام کر سکتی ہے۔ اس کا سراغ ملنے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ بگ بینگ کے بعد کائنات کی تشکیل کے اصل مراحل کیا تھے۔

ناسا کے ماہر طبیعات ڈاکٹر سلاوا جی تریشیف کی تجویز ہے کہ اس قوت کو ثابت کرنے کے لیے چاند اور زمین کے درمیان لیزر شعاعوں کے ذریعے فاصلے کی انتہائی درست پیمائش کی جائے۔

اگر کششِ ثقل کے روایتی حساب کتاب اور تجرباتی نتائج میں معمولی سا فرق بھی پایا گیا، تو یہ اس پانچویں قوت کی موجودگی کا حتمی ثبوت ہوگا۔

تحقیقات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یورپی مشنز جیسے ’اقلیدس‘ اربوں کہکشاؤں کا معائنہ کر رہے ہیں، لیکن ماہرین کا اصرار ہے کہ پانچویں قوت کی تصدیق کے لیے ہمیں اپنے پڑوس یعنی نظامِ شمسی میں تجربات کرنے ہوں گے۔

یہ دریافت نہ صرف طبیعیات کے نقشے کو بدل دے گی بلکہ ہمیں کائنات کے آغاز اور اس کے انجام کے بارے میں بالکل نئی بصیرت فراہم کرے گی۔

ماضی میں بھی اس حوالے سے دلچسپ تجربات سامنے آئے ہیں۔ 2015 میں ہنگری کے سائنس دانوں نے ایک غیر معمولی مشاہدہ کیا تھا جس میں ایک ممکنہ نئے ذرے کا اشارہ ملا، جبکہ بعد میں کچھ نظریات میں اسے ’ایکس بوسون‘ کہا گیا جو ممکنہ طور پر ایک نئی قوت کی علامت ہو سکتا ہے۔

مزید حالیہ تجربات جیسے میں بھی کچھ ایسے نتائج سامنے آئے ہیں جو موجودہ سائنسی ماڈل سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتے، جس سے یہ سوال مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ کیا واقعی کائنات میں کوئی اضافی قوت موجود ہے؟

ڈاکٹر ٹوری شیف کے مطابق اگرچہ بڑے پیمانے پر مشاہدات نئی معلومات دے سکتے ہیں، لیکن اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے سب سے اہم قدم ہمارے اپنے نظامِ شمسی میں انتہائی درست اور کنٹرولڈ تجربات ہوں گے۔

سائنس دانوں کے مطابق اگر یہ ’پانچویں قوت‘ ثابت ہو گئی تو یہ نہ صرف طبیعیات کے بنیادی اصولوں کو بدل دے گی بلکہ ہمیں کائنات کے آغاز، اس کی ساخت اور اس کے مستقبل کو سمجھنے کا ایک بالکل نیا طریقہ بھی فراہم کرے گی۔

Read Comments