لبنان سے حملوں کا خوف: نیتن یاہو نے اہم ترین مذہبی اجتماع منسوخ کر دیا
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے لبنان سے حملوں کے خوف سے اس سال ’لَگ باؤمر‘ نامی مرکزی مذہبی تقریب کو منسوخ کرتے ہوئے اسے محدود اور علامتی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ یہودیوں کا ایک مذہبی اور خوشی کا تہوار ہے جو شمالی اسرائیل میں واقع کوہِ میرون پر ہر سال جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہدایت کی ہے کہ اس سال ’لَگ باؤمر‘ کے موقع پر منعقد ہونے والی مرکزی تقریب کو عوامی اجتماع کے بجائے محدود اور علامتی انداز میں منعقد کیا جائے گا۔
یہ تقریب دراصل دوسری صدی کے معروف یہودی ربی ’شمعون بار یوخائی‘ کی برسی کے سلسلے میں منعقد ہوتی ہے۔
شمعون یوخائی کو یہودی تصوف کی مشہور کتاب ’زوہر‘ کا مصنف مانا جاتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق انہوں نے اپنی وفات کے دن کو ماتم کے بجائے خوشی کے طور پر منانے کی وصیت کی تھی۔
شمالی اسرائیل میں واقع پہاڑی ’کوہِ میرون‘ پر یہ تقریب 4 مئی کی شام اور 5 مئی کو منائی جاتی ہے۔ اس تقریب میں ہر سال ہزاروں الٹرا آرتھوڈوکس شریک ہوتے تھے، یہاں روایتی الاؤ جلا کر اجتماعی عبادات کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
اس سال اسرائیلی حکومت کے فیصلے کو ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 4 اور 5 مئی کو اب مرکزی اجتماع کے بجائے ایک محدود سی تقریب منعقد ہوگی جس میں مخصوص افراد ہی شریک ہوسکیں گے۔
حکومتی بیان کے مطابق یہ فیصلہ لبنان کے ساتھ نازک جنگ بندی، ماؤنٹ میرون کی سرحد کے قریب موجودگی اور حملوں کی صورت میں بڑی تعداد میں افراد کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں درپیش مشکلات کے باعث کیا گیا۔
نیتن یاہو حکومت کی جانب سے اسرائیلی پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس موقع پر سڑکوں کو بند کرکے اور زائرین کو ازخود اس مقام تک پہنچنے سے روکیں۔
اس کے علاوہ متعلقہ وزارتوں کو بھی تقریب کے انتظامات، تعمیراتی کام اور دیگر لاجسٹکس تیاریاں فوری طور پر روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔