اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا

بنیادی شرح سود بڑھ کر 11.5 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی
شائع 27 اپريل 2026 03:55pm

اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا، جس کے بعد شرح سود 11.5 فیصد فیصد ہوگئی۔

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس یا ایک فیصد اضافے کا اعلان کردیا، ایک فیصد اضافے کے بعد شرح سود 10.5 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہوگئی۔

یاد رہے کہ 9 مارچ 2026 کے اجلاس میں مرکزی بینک نے شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جو مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھا۔ تاہم حالیہ جیو پولیٹیکل کشیدگی اور معاشی دباؤ کے باعث اس بار ماہرین کی رائے منقسم رہی۔

بزنس ریکارڈر کے ڈائریکٹر ریسرچ علی خضر نے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی تجویز دی تھی۔ ان کے مطابق اگر پالیسی ریٹ میں اضافہ نہ کیا جاتا تو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی تھی، اس لیے ایک محتاط اور علامتی اضافہ ضروری تھا۔

دوسری جانب عارف حبیب لمیٹڈ نے بزنس ریکاڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شرح سود برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا تھا، مؤقف اختیار کیا گیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال میں محتاط پالیسی اپنانا زیادہ مناسب ہے۔

اسی طرح ٹاپ لائن سیکوریٹریز نے 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی پیشگوئی کی تھی تاکہ تیل کی بڑھتی قیمتوں اور درآمدی دباؤ کے اثرات کو محدود کیا جا سکے۔ کمپنی کے سروے کے مطابق 53 فیصد شرکاء شرح سود میں اضافے کے حق میں تھے۔

ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافے سے مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری پر اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

Read Comments