ٹرمپ کا ریاستی سطح پر امریکی انتخابات پر کنٹرول بڑھانے کا خفیہ منصوبہ
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی تحقیق میں تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کم از کم آٹھ ریاستوں میں تحقیقات، چھاپوں اور ووٹر ڈیٹا تک رسائی کے ذریعے انتخابی نظام پر وفاقی کنٹرول مضبوط بنانے کے اقدامات کر رہی ہے، جس نے مقامی انتخابی حکام میں شدید تشویش اور بے یقینی کو جنم دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ملک کی مختلف ریاستوں میں مرحلہ وار انتخابات کے نظام پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اوہائیو کی فرینکلن کاؤنٹی کے الیکشن حکام کو جنوری میں محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ایک اہلکار کی جانب سے اچانک کال موصول ہوئی، جس میں ووٹرز کے ریکارڈ تک فوری رسائی مانگی گئی۔ بعد ازاں ای میلز کے ذریعے درجنوں ووٹرز کی رجسٹریشن فارم، ووٹنگ ہسٹری، ڈرائیونگ لائسینس اور دیگر حساس معلومات طلب کی گئیں، تاہم اس تحقیق کی وجہ واضح نہیں کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق یہ صرف ایک واقعہ نہیں بل کہ کم از کم آٹھ ریاستوں میں اسی نوعیت کی سرگرمیاں سامنے آئی ہیں، جہاں وفاقی اہلکار ووٹنگ مشینوں تک رسائی، ووٹر ریکارڈز کے حصول اور ماضی کے انتخابی دھاندلی کے کیسز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ عدالتیں پہلے ہی ان الزامات کو مسترد کر چکی ہیں۔
نیواڈا میں ایف بی آئی نے ووٹر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جب کہ کولوراڈو میں ایک اعلیٰ اہلکار نے ووٹنگ مشینوں تک رسائی مانگی۔ ان اقدامات کے بعد مختلف ریاستوں میں الیکشن حکام نے ممکنہ وفاقی مداخلت کے خدشے کے پیش نظر ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی انتخابی نظام کو مرکزی حکومت کے تحت کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔ ان کی انتظامیہ نے ایسے اقدامات تجویز کیے جن میں ووٹ ڈالنے کے لیے شہریت کا ثبوت لازمی قرار دینا، وفاقی سطح پر ووٹر لسٹیں مرتب کرنا اور ووٹر رجسٹریشن میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مقامی نمائندوں کے مطابق اس طرح کی درخواستیں غیر معمولی تھیں کیونکہ امریکی آئین کے تحت انتخابات کا انتظام ریاستی اور مقامی حکومتوں کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ وفاقی حکومت کے پاس۔ حکام نے بتایا کہ انہیں اس تحقیقات کی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے صدارتی احکامات اور مجوزہ قوانین کے ذریعے ووٹنگ کے لیے شہریت کا ثبوت لازمی قرار دینے، ووٹر لسٹوں کی جانچ سخت کرنے اور بذریعہ ڈاک ووٹنگ محدود کرنے جیسے اقدامات بھی تجویز کیے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدامات انتخابی نظام کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ہیں، جب کہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کوششیں ریاستوں کے اختیارات میں مداخلت اور انتخابی عمل پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہیں۔
ماہرین قانون کے مطابق 2020 کے انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں کے شواہد نہیں ملے، تاہم ان الزامات نے عوامی رائے پر اثر ڈالا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق بڑی تعداد میں ریپبلکن ووٹرز اب بھی سمجھتے ہیں کہ 2020 کا انتخاب چوری ہوا تھا۔
ریاستی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وفاقی دباؤ کے باعث آئندہ انتخابات، خصوصاً کانگریس کے کنٹرول کے لیے ہونے والے مقابلوں میں، تنازعات اور مداخلت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ بعض حکام نے کہا کہ وہ اب ایسے حالات کے لیے تیاری کر رہے ہیں جن میں وفاقی اہلکار پولنگ اسٹیشنز پر پہنچ سکتے ہیں یا انتخابی مواد ضبط کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ حکمت عملی ایک بڑے وفاقی قبضے کے بجائے مختلف ریاستوں اور اضلاع میں دباؤ ڈال کر انتخابی نظام پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے، جس نے مقامی حکام اور ووٹرز دونوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ انتخابات کو مکمل طور پر تبدیل کرنا آسان نہیں، تاہم محدود حلقوں یا متنازع نتائج کی صورت میں مداخلت کی کوششیں ممکن ہیں، جس سے امریکی جمہوری نظام پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔