امریکا کے پاس ایران جنگ سے نکلنے کی کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں: جرمن چانسلر
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کمزور دکھائی دے رہا ہے اور اسے افغانستان اور عراق جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جب کہ اس جنگ کے معاشی اثرات یورپ پر بھی پڑ رہے ہیں۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کو سبکی کا سامنا ہے اور واشنگٹن کے پاس اس تنازع سے نکلنے کا واضح راستہ موجود نہیں۔
جرمن شہر مارسبرگ میں طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے فریڈرک مرز نے کہا کہ اس قسم کی جنگوں میں داخل ہونا آسان مگر نکلنا مشکل ہوتا ہے اور امریکا ماضی میں افغانستان اور عراق میں اسی طرح کے طویل اور مہنگے تنازعات کا سامنا کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت نہایت مہارت سے مذاکرات کر رہی ہے اور توقع سے زیادہ مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ مرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکا کو مشکل صورت حال میں ڈال دیا ہے۔
جرمن چانسلر نے فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس تنازع کے اثرات جرمنی کی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ سے توانائی کی قیمتوں اور معاشی پیداوار پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔
فریڈرک مرز نے مزید کہا کہ جرمنی آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کے تحفظ کے لیے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز بھیجنے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ اقدام جنگ بندی سے مشروط ہوگا۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ جون واڈیفول نے خبردار کیا کہ جوہری خطرات اب بھی عالمی سیکیورٹی کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایسے خطرات موجود ہیں، مؤثر دفاعی حکمت عملی ضروری رہے گی۔
یورپ میں اس جنگ کے اثرات پر تشویش بڑھ رہی ہے، جس کے باعث جرمنی اور فرانس نے جوہری دفاع کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ خطے میں عدم استحکام کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔