ایران اور خطے کے مفاد میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں: صدر پیوٹن کی عباس عراقچی سے ملاقات

ایران نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اس کے روس جیسے مضبوط دوست اور اتحادی موجود ہیں: عباس عراقچی
اپ ڈیٹ 27 اپريل 2026 08:47pm

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرز برگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی ہے۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اس کے روس جیسے مضبوط دوست اور اتحادی موجود ہیں جب کہ روسی صدر نے کہا کہ روس ایران اور خطے کے مفاد میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔

روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے نووستی کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ملاقات میں خطے کی صورتِ حال اور امریکا ایران جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران پیوٹن نے کہا کہ روس ہر وہ اقدام کرے گا جو ایران اور خطے کے عوام کے مفاد میں ہو اور جلد از جلد امن کے حصول میں مدد دے۔ ان کے مطابق ماسکو کی پالیسی سب کے لیے واضح ہے اور وہ سیاسی حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

روسی میڈیا کے مطابق روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ انہیں ایران کے سپریم لیڈر کا پیغام بھی موصول ہوا تھا جس پر صدرپیوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور عباس عراقچی سے ان کا نیک خواہشات پر مبنی پیغام سپریم لیڈر تک پہنچانے کی درخواست کی۔

روسی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے عوام اپنی خودمختاری کے لیے بہادری سے لڑرہے ہیں اور روس دعا گو ہے کہ ایرانی قوم کا یہ مشکل وقت ختم ہو، پیوٹن نے امید ظاہر کی کہ خطے میں جلد امن ہوگا۔

ملاقات کے دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اس کے روس جیسے مضبوط دوست اور اتحادی موجود ہیں۔ انہوں نے روسی فیڈریشن کی جانب سے ایران کے لیے مسلسل اور غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون خطے میں ایران کی پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران امریکا کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھے گا۔ انہوں نے روس اور ایران کے تعلقات کو مضبوط قرار دیتے ہوئے مزید تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔

دونوں رہنماوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود رابطے اور سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی، جب کہ ایران نے موجودہ صورتِ حال کو اپنی قومی مزاحمت کا حصہ قرار دیا ہے۔

قبل ازیں، سینٹ پیٹرزبرگ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایران دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کے مقابلے میں کھڑا ہے اور مخالف فریق اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اب مذاکرات کی درخواست کی جا رہی ہے، جس پر ایران غور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور روس اسٹریٹجک شراکت دار ہیں، دونوں ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اور باہمی تعاون مسلسل جاری ہے۔ عراقچی نے مزید کہا کہ یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک مستحکم، مضبوط اور طاقتور نظام ہے۔

Read Comments