روسی سُپر یاٹ نے امریکی ناکہ بندی توڑ دی: آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے پر عالمی میڈیا میں ہلچل
آبنائے ہرمز میں جاری امریکا ایرانی کشیدگی اور بحری پابندیوں کے باوجود روسی ارب پتی الیکسی مورداشوف سے منسلک ایک لگژری سپر یاٹ کی نقل و حرکت نے توجہ حاصل کر لی ہے، شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ چند ان گنے چنے جہازوں میں شامل ہے جو اس حساس بحری راستے سے گزرنے میں کامیاب ہوا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شپنگ پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے اعداد و شمار نے بتایا کہ 142 میٹر طویل اور 50 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی یاٹ نورڈ جمعہ کو تقریباً 1400 جی ایم ٹی پر دبئی کی ایک مرینا سے روانہ ہوئی، ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز عبور کی اور اتوار کی صبح مسقط پہنچ گئی۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس کثیر منزلہ تفریحی یاٹ کو اس راستے کے استعمال کی اجازت کیسے ملی، کیونکہ فروری سے ایران نے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر نہایت اہمیت کی حامل ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق الیکسی مورداشوف جو روسی صدر پیوٹن کے قریبی سمجھے جاتے ہیں باضابطہ طور پر نورڈ کے مالک کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں، تاہم 2025 کے روسی کارپوریٹ ریکارڈ اور شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ یاٹ 2022 میں ایک روسی کمپنی کے نام رجسٹر کی گئی تھی جو ان کی اہلیہ کی ملکیت ہے۔ یہ کمپنی روس کے شہر چیریپوویتس میں رجسٹرڈ ہے، جہاں مورداشوف کی اسٹیل کمپنی سیورستال بھی رجسٹرڈ ہے۔
مورداشوف ان روسی شخصیات میں شامل ہیں جن پر یوکرین پر روسی حملے کے بعد امریکا اور یورپی یونین نے پابندیاں عائد کی تھیں، ان پابندیوں کی وجہ ان کے صدر پیوٹن سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔
پیر کے روز مورداشوف کے نمائندے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
نورڈ دنیا کی بڑی لگژری یاٹس میں شمار ہوتی ہے، جس میں 20 اسٹیٹ رومز، سوئمنگ پول، ہیلی پیڈ اور ایک آبدوز بھی موجود ہے، جیسا کہ انڈسٹری پبلی کیشن سپر یاٹ ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی اور ایرانی کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ جہاں ایران جنگ کے آغاز سے قبل یومیہ 125 سے 140 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، وہیں اب صرف چند، زیادہ تر تجارتی جہاز ہی روزانہ اس گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔
روس اور ایران کے تعلقات طویل عرصے سے قریبی رہے ہیں اور حالیہ برسوں میں ان میں مزید مضبوطی آئی ہے، خصوصاً 2025 کے ایک معاہدے کے ذریعے انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دیا گیا۔
اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر کو روس پہنچے جہاں ان کی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات ہوئی۔ اس سے قبل وہ پاکستان اور عمان میں ثالثی مذاکرات میں بھی شریک ہوئے تھے۔