ٹرمپ کی اہلیہ کی تضحیک، امریکی کامیڈین جمی کمل کا معافی سے انکار

جمی کمل کا میلانیا ٹرمپ سے متعلق 'متنازع مذاق پر' معافی سے دوٹوک انکار، تنازع مزید شدت اختیار کر گیا
شائع 29 اپريل 2026 10:29am

امریکی ٹی وی میزبان جمی کمل نے خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ سے متعلق اپنے متنازع بیان پر معافی مانگنے سے صاف انکار کر دیا ہے، جس کے بعد سیاسی اور میڈیا حلقوں میں بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔

کمِل نے اپنے شو ’جمی کمل لائیو‘ میں جاری تنازع پر بات کرتے ہوئے نہ صرف اپنے بیان کا دفاع کیا بلکہ ناقدین کو بھی جواب دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ’متوقع بیوہ‘ والا جملہ ایک مزاحیہ سیاق میں کہا گیا تھا اور اسے سنجیدگی سے لینا درست نہیں۔

انہوں نے صدرڈونلڈ ترمپ اور میلانیا ٹرمپ کی جانب سے شو بند کرنے کے مطالبات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کسی کامیڈین کے جملے کو اس حد تک بڑھا دینا غیر ضروری ہے۔ کمِل کے مطابق، یہ صرف ایک ”ہلکا طنزیہ جملہ“ تھا جس کا مقصد دونوں کے درمیان عمر کے فرق کی طرف اشارہ کرنا تھا، نہ کہ کسی قسم کی دھمکی دینا۔

کمِل نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ اپنے بیان پر معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ ان کے مطابق یہ آزادیِ اظہار کے دائرے میں آتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ ماضی میں بھی تشدد کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں، اس لیے ان پر ایسے الزامات بے بنیاد ہیں۔

یہ تنازع اس وقت مزید حساس ہو گیا جب وائٹ ہاؤس کریسپونڈینٹ ڈنر کے مقام کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ تاہم کمِل نے اس واقعے اور اپنے مذاق کے درمیان کسی بھی تعلق کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک کامیڈی جملے کو حقیقی واقعات سے جوڑنا غیر منطقی ہے۔

دوسری جانب، ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کمِل کے بیان کو ”خطرناک“ قرار دیا اور اے بی سی اور دی والٹ ڈزنی سے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر برطرف کیا جائے۔ میلانیا ٹرمپ نے بھی اپنے بیان میں اس مذاق کو ”نفرت انگیز اور پرتشدد“ قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں سیاسی تقسیم پہلے ہی گہری ہے اور میڈیا شخصیات اور سیاستدانوں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جمی کمِل اور ٹرمپ کے درمیان لفظی جنگ بھی کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اس معاملے نے ایک بار پھر آزادیِ اظہار اور ذمہ دارانہ گفتگو کے درمیان حد بندی پر بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک طرف کامیڈین اپنے طنز کو جائز قرار دیتے ہیں، وہیں سیاسی شخصیات اسے حد سے تجاوز سمجھتی ہیں۔

Read Comments