یو اے ای کے پاس تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ کیا ہے؟

یو اے ای کی اوپیک سے علیحدگی خلیجی سیاست میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے
شائع 29 اپريل 2026 04:21pm

متحدہ عرب امارات کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ’اوپیک‘ سے علیحدگی کے اعلان کو اس اتحاد کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے تناظر میں یو اے ای متبادل راستوں پر توجہ دے رہا ہے تاکہ تاکہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے تیل براہ راست بحرِ ہند تک پہنچایا جا سکے۔ اس فیصلے کو مستقبل میں تیل کی پیداوار اور ترسیل کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ یکم مئی سے باضابطہ طور پر ’اوپیک‘ اور ’اوپیک پلس‘ اتحاد دونوں سے الگ ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یو اے ای اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا چاہتا ہے تاکہ ملکی معیشت کو فائدہ پہنچا سکے۔

اوپیک تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ہے جو 1960 میں قائم ہوئی تھی اور یو اے ای نے 1967 میں اس تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ایران، عراق، کویت، سعودی عرب اور وینزویلا اس کے بانی ممبران تھے۔

اس کا مقصد ممبر ممالک کی پیٹرولیم پالیسیوں کو یکجا کرنا تھا تاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے اور مغربی کمپنیوں کی اجارہ داری کو ختم کیا جا سکے۔

سنہ 2016ء میں اوپیک پلس کے نام سے ایک اور اتحاد قائم کیا گیا تھا جو عالمی سطح پر تیل کی پیداوار اور مارکیٹ میں رسد کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس میں اوپیک ممالک کے علاوہ روس، میکسیکو، قازقستان اور عمان جیسے مزید تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی شامل ہیں۔

یو اے ای اوپیک کا چوتھا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک رہا ہے۔ سعودی عرب کے بعد یو اے ای کے پاس تیل پیدا کرنے کی دوسری سب سے بڑی اضافی صلاحیت موجود ہے، جو مارکیٹ میں کسی بھی بحران کی صورت میں قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے اہم قرار دی جاتی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی تجارت کا اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے عالمی تیل کی رسد کا تقریباً 20 سے 30 فیصد تیل دنیا بھر میں سپلائی ہوتا ہے۔ اس اہم ترین بحری گزرگاہ کی بندش کو اب تقریباً دو ماہ بیت چکے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی برآمدات کے لیے متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں۔

یو اے ای سمیت عراق، کویت، قطر اور بحرین جیسے ممالک کی برآمدات اسی بحری راستے پر منحصر ہیں، جس کی بندش ان کے لیے ایک بڑا معاشی خطرہ ہے۔

اس بحران نے نہ صرف عالمی توانائی کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے بلکہ یہ حقیقت بھی عیاں کر دی ہے کہ جب عالمی معیشت کے اہم راستے بند ہوتے ہیں تو دنیا کتنی بے بس ہو جاتی ہے۔ اس تناظر میں متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ جو برسوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، ایک وسیع تر علاقائی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا جارہا ہے۔

اٹلانٹک کونسل کی سینئر ایڈوائزر میسون کفافی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایران کے اقدامات سے پریشان خلیجی ممالک اب آبنائے ہرمز کا متبادل تلاش کرنے مجبور ہو گئے ہیں۔

اماراتی حکام پہلے ہی ابوظہبی کے تیل کے ذخائر کو آبنائے ہرمز کے بجائے فجیرہ کی بندرگاہ تک پہنچانے کے لیے نئی پائپ لائنوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ وہ کسی بھی بحری ناکہ بندی سے متاثر ہوئے بغیر اپنا تیل دنیا کو بیچ سکیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس کچھ ایسی پائپ لائنیں موجود ہیں جو آبنائے ہرمز کا متبادل بن سکتی ہیں، جس میں سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ اور متحدہ عرب امارات کی ’حبشان فجیرہ پائپ لائن‘ شامل ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ پائپ لائنز فی الحال آبنائے ہرمز سے گزرنے والے یومیہ 20 ملین بیرل تیل جتنی سپلائی کرنے کی گنجائش نہیں رکھتی ہیں۔

سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ اس کی پائپ لائن 7 ملین بیرل یومیہ منتقل کر رہی ہے، لیکن یہ بھی مجموعی ضرورت سے کہیں کم ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے لیے ’حبشان فجیرہ پائپ لائن‘ اس وقت لائف لائن بن چکی ہے۔ یہ پائپ لائن یومیہ 1.5 سے 1.8 ملین بیرل تیل براہِ راست بحرِ ہند کے ساحل تک پہنچا سکتی ہے۔

اگرچہ یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز کا مکمل متبادل نہیں ہے، لیکن یہ ابوظہبی کے لیے ایک اسٹریٹیجک انشورنس کی طرح ہے، جو اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی مارکیٹ کو تیل فراہم کرتا رہے۔

یہ راستہ ریگستانی ٹیلوں سے شروع ہو کر سنگلاخ پہاڑوں تک پھیلا ہوا ہے، جہاں اب تمام خلیجی ممالک اسی طرح کے نئے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

اگرچہ یو اے ای کا یہ فیصلہ بظاہر اچانک لگتا ہے، لیکن خلیجی سیاست کے ماہرین کے مطابق یو اے ای کافی عرصے سے اس کے لیے پر تول رہا تھا۔ یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پالیسیوں پر اختلاف گزشتہ پانچ برسوں سے واضح تھا۔

سعودی عرب اپنی ’ویژن 2030‘ جیسی بڑی اصلاحات اور بھاری بجٹ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے تیل کی قیمتوں کو بلند دیکھنا چاہتا ہے، جس کے لیے وہ پیداوار میں کمی کا حامی ہے۔

اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات کی معیشت زیادہ مستحکم اور متنوع ہے، اور اس نے اپنی پیداواری صلاحیت کو 3.4 ملین بیرل سے بڑھا کر 2027 تک 5 ملین بیرل روزانہ تک پہنچانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ تاہم، اوپیک کا تیل پیداواری کوٹہ امارات کو اپنی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے سے روک رہا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای اب سعودی عرب کے زیرِ اثر اداروں، جیسے کہ عرب لیگ یا خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) میں رہنے کے بجائے اپنی قومی مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔

فی الحال، آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے ہی جنگ ختم ہوئی اور ناکہ بندی کھلی، اماراتی تیل کی ریل پیل عالمی منڈی میں قیمتوں کو 50 ڈالر تک گرا سکتی ہے۔

یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی کامیابی کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے، جو ماضی میں اوپیک کو عالمی تیل قیمتوں پر اثر انداز ہونے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یو اے ای کا یہ فیصلہ خلیج کے پرانے سیاسی ڈھانچے کے خاتمے اور ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

Read Comments