ایران کی قومی ٹیم 2026 کے ورلڈ کپ میں شرکت کرے گی: فیفا

کشیدگی کے باوجود فیفا کا فیصلہ، امریکا ایران کشیدگی کی صورتِ حال مزید حساس۔
شائع 01 مئ 2026 09:33am

عالمی فٹبال تنظیم ”فیفا“ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی قومی ٹیم 2026 کے ورلڈ کپ میں شرکت کرے گی اور اپنے تمام گروپ میچز امریکا میں کھیلے گی۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔

فوکس نیوز کے مطابق فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے کینیڈا کے شہر وینکوور میں ہونے والی فیفا ورلڈ کانگریس کے دوران واضح کیا کہ ایران نہ صرف ٹورنامنٹ میں شامل ہوگا بلکہ اپنے میچز امریکا میں ہی کھیلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کسی قسم کی غلط فہمی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے پس منظر میں سامنے آیا ہے جب رواں سال ایک مشترکہ امریکی اور اسرائیلی کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللی علی خامنہ ای کی ہلاکت نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ اس واقعے کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ ایران کے میچز کسی اور ملک منتقل کیے جا سکتے ہیں، تاہم فیفا نے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

ایران اپنی مہم کا آغاز 15 جون کو نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس کے سوفائی اسٹیڈیم میں کرے گا۔ اس کے بعد 21 جون کو اسی میدان میں بیلجیئم کے خلاف مقابلہ ہوگا۔ گروپ مرحلے کا آخری میچ 26 جون کو سیئٹل کے لومین فیلڈ میں مصر کے خلاف کھیلا جائے گا۔

اگرچہ میچوں کا شیڈول طے ہو چکا ہے، لیکن سیاسی مسائل پہلے ہی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حال ہی میں کینیڈا نے ایرانی فٹبال حکام کے ایک وفد کو ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی، جس میں فیڈریشن کے صدر مہدی تاج بھی شامل تھے۔

دوسری جانب ایران کی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں انہیں یقین نہیں کہ قومی ٹیم امریکا میں جا کر ورلڈ کپ کھیل سکے گی، خاص طور پر حالیہ عسکری کشیدگی اور حملوں کے بعد۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتِ حال میں یہ توقع رکھنا مشکل ہے کہ ایران کی ٹیم پورے جوش اور امید کے ساتھ ورلڈ کپ کی تیاری کرے۔ فیڈریشن کے مطابق ٹیم کے میچز شیڈول کے مطابق طے ہیں، لیکن سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال نے غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے۔

فیفا نے اس صورتِ حال کو تسلیم کیا ہے لیکن یہ بھی واضح کیا کہ میزبان ممالک اپنی سرحدی پالیسیوں کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایران کے میچز غیر معمولی توجہ حاصل کریں گے، خاص طور پرامریکا کے مغربی ساحل لاس اینجلس میں جہاں ایرانی نژاد افراد کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ شائقین اور حکام دونوں کے لیے یہ صورتِ حال ایک امتحان بن سکتی ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا ایونٹ بین الاقوامی سیاست کے دباؤ کو کس حد تک برداشت کر سکتا ہے۔

Read Comments