ترکیہ میں یومِ مزدور پر لیبر یونین اور پولیس میں جھڑپیں، درجنوں گرفتار

مظاہرین کے استنبول کے تقسیم اسکوائر کی جانب مارچ کی کوشش پر پولیس کا سخت کریک ڈاؤن اور واٹر کینن کا استعمال
اپ ڈیٹ 01 مئ 2026 04:36pm

ترکیہ میں یومِ مزدور کے موقع پر استنبول میں لیبر یونین کے مظاہروں کے دوران پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کرتے ہوئے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کی جانب سے مرکزی علاقوں کو بند کیے جانے کے باوجود مظاہرین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی، جس سے حالات کشیدہ ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یکم مئی کو مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر استنبول میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ ترک میڈیا نے کم از کم 57 گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔

ہر سال کی طرح اس بار بھی یکم مئی کے موقع پر استنبول میں سکیورٹی کے سخت انتظامات نظر آئے، جہاں تقسیم اسکوائر اور اس کے اطراف کے علاقوں کو بند رکھا گیا۔

گزشتہ سال مظاہرے شہر کے علاقے کادیکوئے منتقل ہو گئے تھے جہاں 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق شہر کے یورپی حصے میں ان گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی جو ماضی میں حکومت مخالف احتجاج کا مرکز رہنے والے تقسیم اسکوائر کی جانب مارچ کرنا چاہتے تھے۔ پولیس نے اس علاقے کو پہلے ہی سیل کر رکھا تھا۔

میجیدیے کوئے میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی گئی، جبکہ بشکتاش میں پولیس نے مظاہرین کو گھیر کر بعض مواقع پر طاقت کا استعمال کیا اور کئی افراد کو زمین پر گرا کر گرفتار کیا۔

یومِ مئی کے موقع پر ترکیہ میں ہر سال سخت سیکیورٹی انتظامات کیے جاتے ہیں اور استنبول کے مرکزی علاقوں خصوصاً تقسیم اسکوائر کے اطراف کو بند کر دیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی مظاہرے کادیکوئے منتقل ہوئے تھے جہاں 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سال مزدور تنظیموں اور سول سوسائٹی نے “روٹی، امن اور آزادی” کے نعرے کے تحت مظاہروں کی کال دی تھی، جبکہ حکام نے پیشگی طور پر متعدد افراد کے وارنٹ بھی جاری کیے تھے۔

Read Comments