ہنٹا وائرس کیا ہے؟ علامات اور بچاؤ کے طریقے

ہنٹا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو کیسے رکھا جاتا ہے؟
شائع 04 مئ 2026 09:44am

ہنٹا وائرس دراصل جراثیموں کا ایک ایسا گروہ ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کی مخصوص اقسام کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس ان جانوروں کو خود تو بیمار نہیں کرتا لیکن ان کے فضلے، پیشاب اور تھوک کے ذریعے ماحول میں پھیل جاتا ہے۔

عام طور پر جب انسان ایسی جگہوں پر صفائی کرتے ہیں جہاں یہ غلاظت موجود ہو، تو وہاں اڑنے والی دھول کے ساتھ یہ وائرس سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں یہ وائرس دو طرح کی سنگین بیماریاں پیدا کرتا ہے، جن میں سے ایک پھیپھڑوں کو نشانہ بناتی ہے اور دوسری گردوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

امریکا اور کینیڈا جیسے ملکوں میں پایا جانے والا ہنٹا وائرس پھیپھڑوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے جس میں شرح اموات تقریباً 40 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ ایشیا اور یورپ میں یہ گردوں کی خرابی اور خون بہنے والے بخار کا باعث بنتا ہے جس میں شرح اموات ایک سے پندرہ فیصد تک ہوتی ہے۔

اس بیماری کی علامات عام طور پر وائرس لگنے کے ایک سے آٹھ ہفتوں کے درمیان ظاہر ہوتی ہیں اور شروع میں یہ کسی عام وائرل انفیکشن جیسی لگتی ہیں۔

ابتدائی مرحلے میں مریض کو اچانک تیز بخار، کپکپاہٹ، سر درد اور کمر و کولہوں کے پٹھوں میں شدید درد محسوس ہوتا ہے۔

اگر پھیپھڑوں والی قسم ہو تو چار سے دس دن کے اندر مریض کو خشک کھانسی اور سانس لینے میں شدید دشواری ہونے لگتی ہے کیونکہ پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے، جس سے سانس یا دل کی حرکت بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

دوسری صورت میں مریض کا بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے، جسم کے اندرونی حصوں سے خون بہہ سکتا ہے اور گردے اچانک کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔

اس وائرس سے بچاؤ کے حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے اہم طریقہ چوہوں سے دوری اختیار کرنا ہے۔

انفیکشن کا سب سے بڑا ذریعہ وہ خشک ذرات ہیں جو چوہوں کے فضلے سے ہوا میں شامل ہوتے ہیں، خاص طور پر پرانے گوداموں یا بند کمروں کی صفائی کے دوران یہ خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ چوہے کے کاٹنے یا آلودہ سطح کو چھونے سے بھی یہ جراثیم منتقل ہو سکتے ہیں، تاہم ایک انسان سے دوسرے انسان میں اس کا پھیلاؤ انتہائی نایاب ہے۔

ماہرین صفائی کے دوران احتیاط کی تاکید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جہاں چوہوں کی موجودگی کا شبہ ہو وہاں جھاڑو یا ویکیوم کلینر استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے وائرس ہوا میں اڑتا ہے، اس کے بجائے بلیچ کے محلول سے جگہ کو گیلا کریں اور دستانے و ماسک کا استعمال کریں۔

فی الحال اس وائرس کا کوئی خاص علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے اور متاثرہ مریضوں کو اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھ کر ان کی علامات کے مطابق علاج کیا جاتا ہے۔

Read Comments