دل کا دورہ پڑنے پر ایک منٹ کی یہ بروقت کوشش زندگی بچا سکتی ہے

دل کے دورے میں ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔
شائع 05 مئ 2026 11:19am

دل کے امراض آج کل بہت عام ہو چکے ہیں اور تشویشناک بات یہ ہے کہ نوجوانوں میں بھی ہارٹ اٹیک کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایسی ہنگامی صورتحال میں کارڈيو پلمونری ریسیسیٹیشن (سی پی آر) کا علم ہونا ہر شہری کے لیے زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ ایک ایسی تکنیک ہے جو اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کسی شخص کی سانس رک جائے یا دل کی دھڑکن بند ہو چکی ہو۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر ہر خاندان میں صرف ایک فرد سی پی آر دینا سیکھ لے تو ہارٹ اٹیک سے ہونے والی اموات میں 60 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

سی پی آر کیا ہے؟

سی پی آر ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں ضرورت پڑنے پر سینے پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور مصنوعی سانس دی جاتی ہے۔ جب ہارٹ اٹیک یا کارڈیک اریسٹ کی وجہ سے دل کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، تو سی پی آر عارضی طور پر خون کی گردش کو بحال رکھ کر دماغ اور دیگر اعضاء کو زندہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

طبی ماہرین اس بارے میں مشورہ دیتے ہیں کہ ہنگامی حالت میں ہر ایک سیکنڈ بہت قیمتی ہوتا ہے، خاص طور پر اگر ہسپتال پہنچنے سے پہلے صحیح طریقے سے سینے کو دبانے کا عمل شروع کر دیا جائے تو مریض کے بچنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

اگر آپ کے سامنے کوئی شخص اچانک بے ہوش ہو کر گر جائے تو سب سے پہلے ایمبولینس کے لیے یا متعلقہ ایمرجنسی نمبر پر کال کریں۔

جب تک طبی مدد نہیں پہنچتی، آپ مریض کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں کہ کیا وہ اوپر نیچے ہورہا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد مریض کے چہرے کے قریب جا کر اس کی سانس کو محسوس کریں۔

اگر سانس نہیں آ رہی تو جبڑے اور گردن کے درمیان موجود حصے کو چھو کر نبض چیک کریں۔ اگر نبض اور سانس دونوں بند ہوں تو بغیر وقت ضائع کیے فوری طور پر سی پی آر شروع کر دینا چاہیے۔

سی پی آر دینے کے لیے مریض کو ہمیشہ کسی سخت اور ہموار جگہ یعنی فرش پر لٹانا چاہیے، کیونکہ نرم بستر یا گدے پر سینے کو دبانے سے دل پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑتا۔

سینے کے عین درمیان میں موجود ہڈی کے نچلے حصے پر اپنے ایک ہاتھ کی ہتھیلی رکھیں اور دوسرے ہاتھ کو اس کے اوپر رکھ کر انگلیوں کو آپس میں جوڑ لیں۔ اپنی کہنیوں کو بالکل سیدھا رکھیں اور اپنے جسم کے وزن کا استعمال کرتے ہوئے سینے کو دبانا شروع کریں۔

ماہرین کے مطابق آپ کو ایک منٹ میں 100 سے 120 بار سینے کو دبانا چاہیے اور ہر بار سینہ تقریباً 2 انچ تک نیچے دبنا چاہیے۔

اگر آپ تربیت یافتہ ہیں تو ہر 30 بار سینہ دبانے کے بعد 2 بار مریض کو منہ کے ذریعے مصنوعی سانس بھی دے سکتے ہیں، لیکن اگر آپ طریقہ نہیں جانتے تو صرف سینہ پر دباؤ ڈالنے کا عمل بھی کافی کارگر ثابت ہوتا ہے۔

یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک مریض کو ہوش نہ آ جائے یا ایمبولینس نہ پہنچ جائے۔

اگر مریض کی سانس بحال ہو جائے تو اسے فوری طور پر کروٹ کے بل لٹا دیں تاکہ اسے سانس لینے میں آسانی ہو۔

نوٹ: یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں، اسے پیشہ ورانہ طبی مشورے کا متبادل نہ سمجھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کریں۔

Read Comments