گرمیوں میں لسّی پینا کن لوگوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے؟
تپتی دھوپ اور شدید گرمی کے موسم میں لسی کا ایک ٹھنڈا گلاس کسی نعمت سے کم محسوس نہیں ہوتا۔
دہی سے تیار ہونے والا یہ روایتی مشروب نہ صرف زبان کو ذائقہ دیتا ہے بلکہ جسم کو ٹھنڈک پہنچانے اور پانی کی کمی پورا کرنے کے لیے بھی بہترین سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرمیوں میں لوگ اسے اپنی روزمرہ خوراک کا لازمی حصہ بناتے ہیں۔
تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں یہ سفید رنگ کا فرحت بخش مشروب اپنے اندر بے شمار فوائد چھپائے ہوئے ہے، وہیں یہ ہر انسان کے لیے یکساں مفید ثابت نہیں ہوتی۔ اگر لسی غلط وقت پر یا ضرورت سے زیادہ پی جائے تو یہ فائدے کے بجائے الٹا نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق لسی نظام ہضم کو بہتر بنانے میں جادوئی اثر رکھتی ہے کیونکہ اس میں موجود پروبائیوٹکس معدے کو صحت مند رکھتے ہیں۔
گرمی کے ستائے ہوئے لوگوں کے لیے یہ جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور ہائیڈریشن برقرار رکھنے کا ایک قدرتی ذریعہ ہے۔ لیکن صحت کے حوالے سے کچھ مخصوص مسائل کا شکار افراد کو اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔
ایسے لوگ جو دودھ یا دہی سے الرجی رکھتے ہیں، ان کے لیے لسی پیٹ میں درد، گیس یا دست کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کو اکثر نزلہ، زکام یا گلے کی خرابی کی شکایت رہتی ہے، انہیں لسی سے دور رہنا چاہیے کیونکہ اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے جو مسئلے کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔
کم بلڈ پریشر کے مریضوں کو بھی لسی کے استعمال میں محتاط رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ جسم کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ ساتھ فشار خون کو مزید کم کر سکتی ہے۔
لسّی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے صحیح وقت، صحیح مقدار اور صحیح طریقے سے پیا جائے۔ ماہرین نے کہا کہ دن کے وقت، خاص طور پر دوپہر میں لسّی پینا بہتر ہے کیونکہ اس وقت ہاضمہ فعال ہوتا ہے اور جسم کو قدرتی ٹھنڈک بھی ملتی ہے۔
طبی ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیشہ تازہ اور گھر کی بنی ہوئی لسی کو ترجیح دیں، کیونکہ بازار میں ملنے والی لسی میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہو سکتی ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لسی پیتے وقت اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، دن میں ایک گلاس لسی کافی ہوتی ہے اور بہت زیادہ ٹھنڈی لسی پینے سے گریز کریں تاکہ گلے کی خرابی سے بچا جا سکے۔
اگر آپ کو کوئی سنگین طبی مسئلہ درپیش ہے تو لسی کو اپنی غذا کا حصہ بنانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں تاکہ آپ اس کے فوائد سے صحیح معنوں میں مستفید ہو سکیں۔