فریکچر میں ٹوٹی ہڈیوں کو تیزی سے جوڑنے والی جادوئی غذائیں
ہڈی ٹوٹ جانے یا فریکچر کی صورت میں صرف ادویات اور آرام ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ صحیح غذا کا انتخاب اور چند اہم احتیاطی تدابیر انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
جب جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹتی ہے تو اسے دوبارہ جڑنے کے لیے عام حالات سے کہیں زیادہ غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ ہڈی جلدی جڑ سکے اور کمزوری اور درد بھی کم ہو۔
ماہرین کے مطابق اگر اس نازک وقت میں خوراک کا خیال نہ رکھا جائے تو ہڈی جڑنے میں نہ صرف زیادہ وقت لگ سکتا ہے بلکہ مریض کو شدید کمزوری اور درد کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
ہڈیوں کی مرمت اور انہیں اندرونی طور پر مضبوط بنانے کے لیے کیلشیم، پروٹین، وٹامن ڈی اور وٹامن سی جیسے اجزاء بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ دودھ اور اس سے بنی اشیاء جیسے دہی اور پنیر کیلشیم سے بھرپور ہوتے ہیں جو ہڈیوں کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔
اسی طرح سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک، میتھی اور سرسوں کیلشیم اور آئرن کا بہترین ذریعہ ہیں اور ہڈیوں کی مرمت کے عمل کو تیز کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روایتی طور پر ہلدی والے دودھ کا استعمال بھی بہت مفید ہے کیونکہ ہلدی میں موجود خصوصیات درد اور سوجن کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
جسمانی ٹشوز کی مرمت اور ہڈیوں کو جوڑنے کے لیے پروٹین بھی لازمی ہے۔ اس کے لیے دالیں، انڈے، چکن اور سویا بین جیسی اشیاء کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔ خشک میوہ جات جیسے بادام، اخروٹ اور کاجو بھی جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔
وٹامن سی سے بھرپور پھل جیسے مالٹا، لیموں اور آملہ کولاجن بنانے میں مدد دیتے ہیں، جو ہڈیوں کے جڑنے کے لیے بنیادی اینٹ کا کام کرتا ہے۔
ہڈیوں کی صحت کے لیے دھوپ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ وٹامن ڈی جسم میں کیلشیم کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، اس لیے روزانہ کچھ دیر دھوپ میں بیٹھنا بہت ضروری ہے۔
پانی کا زیادہ استعمال بھی اس عمل میں مدد دیتا ہے کیونکہ یہ جسم سے زہریلے مادوں کو نکالتا ہے اور خلیات کی تعمیر میں مددگار ہوتا ہے۔
ڈاکٹر کی اجازت سے جسم کے باقی حصوں کی ہلکی حرکت بھی خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے جس سے غذائیت متاثرہ حصے تک تیزی سے پہنچتی ہے۔
دوسری جانب کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جن سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ زیادہ نمک اور چینی کا استعمال ہڈیوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ نمک جسم سے کیلشیم کو باہر نکال دیتا ہے۔
کولڈ ڈرنکس، چائے اور کافی کا زیادہ استعمال بھی ہڈیوں کی مرمت کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔ خاص طور پر تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہڈیوں تک خون کی فراہمی کو روک دیتی ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ جگہ کی مالش سے گریز کریں کیونکہ یہ ہڈی کی قدرتی پوزیشن کو خراب کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فریکچر کے دوران صحیح خوراک ہڈیوں کے جڑنے کے عمل کو تیز کرتی ہے اور جسمانی کمزوری کم کرتی ہے۔ اس طرح آپ جلد اپنی معمول کی زندگی میں واپس آ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اگر کوئی خاص معلومات درکار ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ لینا بہتر رہتا ہے۔