ایران جنگ اور کینز کا بحران: بھارت میں 'ڈائیٹ کوک' پارٹیز کا نیا جنون
ایران میں جاری جنگ کے باعث جہاں عالمی سطح پر کئی تجارتی بحران پیدا ہوئے ہیں، وہیں بھارت میں اس کا ایک انوکھا اثر ڈائٹ کوک کی قلت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس قلت نے بھارتی شہروں میں ڈائٹ کوک پارٹیوں کا ایک نیا اور دلچسپ ٹرینڈ شروع کر دیا ہے جہاں لوگ اس مشروب کے حصول کے لیے ٹکٹ خرید کر تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارت کے دیگر بازاروں کے برعکس یہاں ڈائٹ کوک صرف ایلومینیم کے کین میں فروخت کی جاتی ہے اور جنگ کی وجہ سے سپلائی لائن متاثر ہونے سے ان کینز کی شدید کمی ہو گئی ہے۔
آبنائے ہرمز میں شپمنٹس پھنسنے کے باعث مارکیٹ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم محدود مقدار میں آن لائن خریداری اب بھی ممکن ہے۔
سوشل میڈیا پر اس قلت کے چرچے ہوئے تو ہوٹل مالکان اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے اس موقع کو ایک کاروبار میں بدل دیا۔ اس کمی نے بھارت کے مختلف شہروں میں بارز، ریستورانز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو ایک نیا موقع دے دیا ہے۔
اب دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں میں ڈائیٹ کوک پارٹیز منعقد کی جا رہی ہیں جن کی داخلہ فیس دس سے سولہ ڈالر کے درمیان ہے۔
ان پارٹیوں میں نہ صرف ڈائٹ کوک پینے کو ملتی ہے بلکہ موسیقی، مشروبات اور مختلف سرگرمیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ شرکاء کو خالی کینز پر پینٹنگ کرنے اور ڈائٹ کوک کے تھیم والی شرٹس تیار کرنے کا موقع بھی دیا جاتا ہے۔
ان تقریبات میں نوجوانوں کا جوش و خروش دیدنی ہے جہاں وہ مقامی مصالحوں، شہد اور ہری مرچوں کے ساتھ ڈائٹ کوک کے نئے ذائقے تیار کر رہے ہیں۔
ممبئی میں ہونے والی ایک پارٹی میں ٹکٹ ہی لاٹری کا حصہ بن گیا، جہاں دو افراد کو 50-50 ڈائیٹ کوک کینز انعام میں دی گئیں۔
ایک تقریب کی روح رواں پچیس سالہ اشیکا گپتا ہیں جو خود کو ڈائٹ کوک کی بہت بڑی مداح قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے کوک ٹیلز کے نام سے ایک خاص مینو تیار کیا ہے جس کا مقصد مداحوں کو ایک جگہ جمع کرنا تھا۔
اشیکا کے مطابق ان تقریبات کی مقبولیت دیکھ کر اب کوکا کولا کمپنی نے بھی ان سے رابطہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے مزید پروگرام منعقد کیے جا سکیں۔
ان کے مطابق، ’ہم ایک ایسی پارٹی کر رہے ہیں جہاں ڈائیٹ کوک مفت دی جائے گی۔ ہمارے پاس 500 کینز موجود ہیں، جو ایونٹ کے لیے پہلے ہی محفوظ کر لی گئی تھیں۔‘
ریسٹورنٹ چلانے والے ادارے نائن کیمپ کے سربراہ چیتنیا ماتھر کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے لیے یہ سب کچھ اس لیے پرکشش ہے کیونکہ جب کسی چیز کی کمی ہوتی ہے تو اسے حاصل کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔
ان کی کمپنی بھی دہلی کے قریب ایک ایسی ہی پارٹی کر رہی ہے جس کے لیے انہوں نے پانچ سو کینز کا ذخیرہ پہلے سے کر رکھا ہے۔
دوسری طرف ریٹیل چین براڈوے بھی اس کمی کو ایک تجربے میں بدل رہا ہے۔ کمپنی کے سی ای او سنکلپ کیتھوریا کے مطابق، یہ ڈائیٹ کوک کلچر کا جشن ہے۔ ہم اسے مکمل تجربے کی شکل دے رہے ہیں جس میں برگرز، آرٹ اور ٹی شرٹ پینٹنگ شامل ہے۔
سوشل میڈیا پر اس وقت ڈائٹ کوک کے حوالے سے دلچسپ میمز کی بھرمار ہے اور لوگ مذاق میں اس کے کینز ذخیرہ کرنے کی ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔
اگرچہ کمپنی نے اس قلت پر ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن عوام میں اس کی مانگ اور بڑھتی ہوئی مقبولیت نے اسے ایک خاص مقام دے دیا ہے۔