انوکھا گاؤں جہاں ہر پانچ میں سے ایک شخص جڑواں ہے

جڑواں بچوں کی یہ انوکھی دنیا مسلسل سب کو حیران کر رہی ہے۔
شائع 07 مئ 2026 01:26pm

بھارت کی ریاست کیرالہ میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں کوڈنھی ان دنوں اپنی ایک انوکھی پہچان کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوچکا ہے۔ بظاہر یہ گاؤں کسی بھی دوسرے پرسکون علاقے جیسا نظر آتا ہے، لیکن جیسے ہی یہاں کوئی قدم رکھتا ہے ، اسے ہر طرف ایک جیسی شکلوں والے افراد ملتے ہیں۔

اس گاؤں کو بھارت کا جڑواں شہر کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کی تقریباً 20 فیصد آبادی جڑواں بچوں پر مشتمل ہے۔

کوڈنھی گاؤں میں جڑواں بچوں کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ یہ دنیا بھر کے ماہرین کے لیے ایک معمہ بن چکا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں جڑواں بچوں کی پیدائش کی شرح دنیا میں سب سے کم سمجھی جاتی ہے، وہاں اس گاؤں میں تقریباً 2 ہزار خاندانوں کے درمیان 400 سے 550 جڑواں جوڑے موجود ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق یہاں ہر ایک ہزار پیدائشوں میں سے 42 سے 45 جڑواں بچے ہوتے ہیں، جو کہ بھارت کی عام اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ رجحان کئی دہائیوں سے جاری ہے اور ہر سال نئے جڑواں بچوں کی پیدائش ہوتی رہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو خواتین یہاں سے شادی کے بعد دوسرے علاقوں میں چلی جاتی ہیں، وہیں بھی جڑواں بچوں کو جنم دینے کے واقعات سامنے آتے ہیں، جس سے اس راز میں مزید الجھن پیدا ہوتی ہے۔

یہ گاؤں حال ہی میں ایک مشہور ای کامرس کمپنی فلپ کارٹ کی تشہیری مہم کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر وائرل ہوا ہے۔

اس مہم میں گاؤں کی اس انوکھی خصوصیت کو مزاحیہ انداز میں استعمال کیا گیا ہے جس پر صارفین کی جانب سے بہت دلچسپ تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔

سائنسی لحاظ سے یہ گاؤں اب بھی ایک پہیلی ہے۔ کئی سالوں تک بھارتی اور بین الاقوامی اداروں کی تحقیق کے باوجود ماہرین اس کے پیچھے چھپی اصل وجہ معلوم نہیں کر سکے۔

بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ یہاں کے پانی یا خوراک کا اثر ہو سکتا ہے، لیکن اب تک کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔ نہ ہی کسی مخصوص جین یا کیمیکل کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جا سکا ہے۔

گاؤں کے مکین ان جڑواں بچوں کو قدرت کا خاص تحفہ اور برکت سمجھتے ہیں۔ اپنی اس منفرد پہچان کو برقرار رکھنے اور ایک دوسرے کی مدد کے لیے یہاں کے رہائشیوں نے 2008 میں ٹوئنز اینڈ کنس ایسوسی ایشن کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی ہے۔

یہ گروپ جڑواں بچوں کے خاندانوں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اس معمے کو سمجھنے کے لیے آنے والے محققین کے ساتھ تعاون بھی کرتا ہے۔

یہ رجحان گزشتہ چھ سات دہائیوں سے جاری ہے اور ہر گزرتے سال کے ساتھ اس گاؤں میں جڑواں بچوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

کوڈنھی آج بھی سائنس اور انسانی تجسس دونوں کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے، جہاں جڑواں بچوں کی یہ انوکھی دنیا مسلسل سب کو حیران کر رہی ہے۔

Read Comments