زمین نے خزانہ اگل دیا : میانمار میں 11 ہزار قیراط کا دیوہیکل یاقوت دریافت

میانمار دنیا کے تقریباً 90 فیصد یاقوت پیدا کرتا ہے۔
شائع 10 مئ 2026 12:48pm

میانمار میں کان کنوں نے ایک انتہائی نایاب اور بڑا یاقوت دریافت کیا ہے جسے ملک کی تاریخ کا دوسرا بڑا یاقوت قرار دیا جا رہا ہے۔

اے بی سی نیوز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ دریافت اپریل کے وسط میں روایتی نئے سال کے تہوار کے فوراً بعد منڈالے کے شمالی علاقے موگوک میں ہوئی جو قیمتی پتھروں کی صنعت کا گڑھ مانا جاتا ہے۔

اس یاقوت کا وزن 11 ہزار قیراط یعنی تقریباً 2.2 کلوگرام ہے اور اسے اپنی رنگت اور معیار کی وجہ سے انتہائی قیمتی سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پتھر 1996 میں ملنے والے 21,450 قیراط کے یاقوت سے وزن میں آدھا ہے، لیکن اپنی خاص رنگت کی وجہ سے اس کی قدر زیادہ ہو سکتی ہے۔

اس کا رنگ اور معیار اسے زیادہ قیمتی بناتے ہیں۔ اس یاقوت کی خصوصیات بتاتے ہوئے ماہرین نے اسے جامنی مائل سرخ رنگ کا قرار دیا ہے جس میں زرد رنگ کی جھلک بھی نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ اس کی سطح انتہائی چمکدار ہے اور رنگ کا معیار بھی بہت بلند درجے کا ہے۔

میانمار دنیا کے تقریباً 90 فیصد یاقوت پیدا کرتا ہے اور یہاں قیمتی پتھروں کی تجارت آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں جیسے گلوبل وٹنس مسلسل یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ میانمار سے قیمتی پتھر نہ خریدے جائیں کیونکہ یہ صنعت طویل عرصے سے ملک کی فوجی حکومتوں کو مالی مدد فراہم کرتی رہی ہے۔

ریاستی میڈیا کے مطابق، اس سال میانمار میں انتخابات کے بعد ایک نیا شہری طرز حکومت قائم ہوا، جس کے تحت 2021 کی فوجی حکومت کے سربراہ من آنگ ہلائنگ صدر منتخب ہوئے۔

صدرمن آنگ ہلینگ نے حال ہی میں کابینہ اراکین کے ساتھ اپنے دفتر میں اس عظیم الشان یاقوت کا معائنہ کیا۔

اس موقع پر بتایا گیا کہ اگرچہ موگوک کا علاقہ خانہ جنگی کی وجہ سے شدید لڑائی کا مرکز رہا ہے اور مختلف مسلح گروپوں کے زیر اثر بھی رہا، لیکن اب یہ علاقہ دوبارہ انتظامی کنٹرول میں ہے جہاں سے یہ نایاب پتھر برآمد ہوا ہے۔

یہ قیمتی پتھر اب بھی میانمار میں قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح سے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

Read Comments