سفارتی حل کے لیے تیار، مذاکرات کا مطلب ہرگز ہتھیار ڈالنا نہیں، ایران
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایران سرنڈر کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے اور اس مؤقف میں کوئی نرمی نہیں آئے گی۔
خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے جنگ کے باعث ہونے والے نقصانات کی بحالی سے متعلق ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کو کمزوری یا ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا مقصد اپنے عوام کے حقوق کو حاصل کرنا اور قومی مفادات کا دفاع پوری طاقت اور وقار کے ساتھ کرنا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ جس طرح ایران کے لوگوں کی ثقافت میں رواداری کی جڑیں گہری ہیں، اسی طرح اس سرزمین کی تاریخ میں جبر کے خلاف جدوجہد چمکتی ہے۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ یہ شناخت ایران کے نام کی سربلندی تک جاری رہے گی۔ ظلم کے خلاف جدوجہد ایرانی سرزمین کی تاریخ کا روشن باب ہے۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا بلکہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے، تاہم اگر امریکا ایران پر اپنی مرضی مسلط کرنے یا اسے جھکانے کی کوشش کرے گا تو وہ ناکام ہوگا۔
پیزشکیان نے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کے تحت عام شہریوں، ماہرین، بچوں اور اہم مراکز جیسے اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنانے کا کیا جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔