اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو حیران کن طریقوں سے جواب دیں گے: ایرانی فوج

جنگ ایسے میدان میں داخل ہوجائے گی جس کا دشمن نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا: بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا
شائع 10 مئ 2026 04:50pm

ایران کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو حیران طریقوں سے جواب دیں گے اور جنگ ایسے میدان میں داخل ہوجائے گی، جس کا دشمن نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران دشمن اپنے کسی بھی ہدف کو حاصل نہیں کرسکا جب کہ ایران میں اتحاد مزید مضبوط ہوگیا۔

ایرانی نیوز ایجنسی فارس نیوز کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے اتوار کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ اب سے وہ ممالک جو ایران پر پابندیاں عائد کرنے میں امریکا کی پیروی کریں گے، انہیں آبنائے ہرمز سے اپنے جہاز گزارنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق اب کوئی بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے سے قبل ایران کے ساتھ اپنی سرگرمیوں سے متعلق رابطہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات ایران کے لیے کئی فوائد کا باعث بن سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف جاری فوجی کشیدگی نے ایران کو آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت کو استعمال کرنے پر مجبور کیا ہے اور تہران اب اس علاقے میں اپنی خودمختاری استعمال کر رہا ہے۔

محمد اکرمینیا نے کہا کہ امریکا کئی دہائیوں سے ایران پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے جب کہ یورپی یونین، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک نے بھی ان پابندیوں کی حمایت کی۔

ترجمان ایرانی فوج کا کہنا تھا کہ تہران پہلے ہی ان ممالک سے تعلق رکھنے والے جہازوں کو خبردار کرچکا ہے جنہوں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی حمایت کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا اور ایران پر حملے کے نتیجے میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس جنگ کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہے کہ دشمن اپنے پہلے سے طے شدہ اہداف حاصل نہیں کرسکا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی اقدامات نے ایران کے اندر اتحاد اور یکجہتی کو مزید مضبوط کیا ہے۔

Read Comments