فرانسیسی صدر کو بیوی سے تھپڑ کیوں پڑا تھا؟ شرمناک وجہ سامنے آگئی
فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون اور ان کی اہلیہ بریگزٹ میکرون ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ صحافی فلورین ٹارڈف کی نئی شائع ہونے والی کتاب ”این آلموسٹ پرفیکٹ کپل“ میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال مئی میں ہنوئی کے دورے کے دوران خاتونِ اول نے صدر میکرون کو تھپڑ مارا تھا۔
کتاب میں کیے گئے دعوے کے مطابق اس تلخی کی بنیاد وہ پیغامات تھے جو بریگزٹ میکرون نے مبینہ طور پر صدر کے فون میں دیکھ لیے تھے، جس کے بعد دونوں کے درمیان شدید تنازع پیدا ہوگیا۔
یہ پیغامات 42 سالہ معروف ایرانی نژاد فرانسیسی اداکارہ گلشیفتے فارحانی کے ساتھ تبادلہ کیے گئے تھے۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر میکرون اور اداکارہ کے درمیان کئی ماہ سے ایک قلبی تعلق قائم تھا اور صدر نے انہیں پیغام میں لکھا تھا کہ ”میں آپ کو بہت خوبصورت اور دلکش پاتا ہوں“۔ مصنفہ نے یہ ساری باتیں خاتون اوّل کی دوست کے حوالے سے لکھی ہیں۔
اس کتابی دعوے کو ہنوئی ہوائی اڈے پر پیش آنے والے اس واقعے سے جوڑا جا رہا ہے جس کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ طیارے کے دروازے پر بریگزٹ میکرون نے صدر کے چہرے کو دھکیلا یا تھپڑ مارا تھا۔ اس وقت ایلیسی پیلس نے اسے میاں بیوی کے درمیان ایک ”خوشگوار مذاق“ قرار دے کر رد کر دیا تھا اور صدر نے خود بھی عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی تھی۔
دوسری طرف امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس واقعے پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا، ’یقینی بنائیں کہ دروازہ بند رہے‘، جبکہ بعد میں انہوں نے کہا کہ فرانسیسی صدر کی اہلیہ ان کے ساتھ بہت برا سلوک کرتی ہیں۔
ایلیسی پیلس اور خاتونِ اول کے قریبی ذرائع نے ان تمام الزامات کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔
فرانسیسی اخبار ’لی پیریشین‘ سے گفتگو میں ان کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ خاتونِ اول نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے اور وہ کبھی اپنے شوہر کا موبائل فون چیک نہیں کرتیں اور اور کتاب میں لکھا گیا قصہ ’من گھڑت‘ ہے۔
صدر میکرون کے دفتر نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ طیارے میں پیش آنے والا واقعہ محض خوشگوار مذاق تھا۔ جبکہ گل شیفتے فرحانی نے بھی صدر میکرون کے ساتھ کسی قسم کے تعلق کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی افواہیں پھیلانے والے لوگ اپنی زندگی میں محبت سے محروم ہیں۔
گل شیفتے فرحانی ایرانی اور فرانسیسی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ہیں، جو ایم فار مدر، باڈی آف لائیز، اباؤٹ ایلی، دی پیشنس سٹون، پیٹرسن، گرلز آف دی سن ، ایکسٹریکشن اور کئی دیگر فلموں میں اپنی اداکاری کے باعث شہرت رکھتی ہیں۔ وہ ایران کی مذہبی حکومت پر تنقید کے حوالے سے بھی جانی جاتی ہیں۔