پاکستان میں چینی ٹیکسٹائل کمپنی کا بڑا مںصوبہ: ہزاروں نوکریاں ملنے کا امکان

چین کی ملبوسات تیار کرنے والی مشہور کمپنی ’چیلنج فیشن‘ نے پاکستان میں اپنے کاروباری دائرہ کار کو وسیع پیمانے پر...
شائع 14 مئ 2026 11:44am

چین کی ملبوسات تیار کرنے والی مشہور کمپنی ’چیلنج فیشن‘ نے پاکستان میں اپنے کاروباری دائرہ کار کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کا اعلان کیا ہے, جس کا طویل مدتی ہدف سالانہ 400 سے 500 ملین ڈالر کی برآمدات حاصل کرنا ہے۔

اس سلسلے میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور چینی کاروباری وفد کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس کی قیادت چیلنج فیشن کے چیئرمین ہوانگ اور سی ای او کیرن چن کر رہے تھے۔

اس ملاقات میں برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ، صنعتی سہولیات اور پاکستان و چین کے درمیان وسیع تر معاشی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

چینی وفد نے وزیر تجارت کو بتایا کہ وہ پاکستان میں بین الاقوامی معیارات کے مطابق ایک بڑی مینوفیکچرنگ سہولت قائم کر رہے ہیں جس کا پہلا مرحلہ رواں سال کے آخر تک مکمل ہونے کی امید ہے۔

کمپنی کے چیئرمین ہوانگ نے وفاقی وزیر کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طویل مدتی منصوبے کے ذریعے پاکستان میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے صنعتی آپریشنز شروع کیے جائیں گے جس سے 20 ہزار افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

چینی وفد نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور یہاں کی محنتی افرادی قوت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کو جوڑنے والا ایک اہم ملک ہے اور چینی تاجر یہاں اپنا کاروبار بڑھانے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی اس کمپنی نے پاکستان میں پانچ سال کے دوران 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ ایک خصوصی اقتصادی زون قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وفاقی وزیر جام کمال خان نے چینی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے طریقہ کار کو سادہ بنانے پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے گفتگو کے دوران مشاہدہ کیا کہ عالمی معاشی حالات اور سپلائی چین میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستان جیسے ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔

جام کمال نے مزید کہا کہ پاکستان کا محل وقوع اور صنعتی صلاحیت اسے برآمدات کے لیے ایک پرکشش مقام بناتی ہے جو علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط معاشی انضمام کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

ملاقات کے دوران چینی نمائندوں نے پاکستان میں اپنے کام کے مثبت تجربے کا ذکر کیا لیکن ساتھ ہی اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ بعض اوقات بین الاقوامی تاثرات غیر ملکی سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

وفد نے صنعتی تعمیرات کے لیے مخصوص مٹیریل اور خام مال کی درآمد سے متعلق کچھ مسائل بھی اٹھائے جو فی الحال پاکستان میں تیار نہیں ہوتے۔

وفاقی وزیر نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ حکومت صنعتی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس وقت ٹیرف کے ڈھانچے کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے تاکہ مینوفیکچررز کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔

انہوں نے وفد کو دعوت دی کہ وہ ایسے سامان کی تفصیلات فراہم کریں تاکہ وزارت تجارت اس معاملے کا جائزہ لے سکے۔ آخر میں ملاقات میں زمین کی منظوری، بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی زونز کے فریم ورک میں اصلاحات پر بھی غور کیا گیا تاکہ سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار کرنا آسان ہو سکے۔

Read Comments