پانڈا بانڈ کیا ہے اور پاکستان نے چین میں ان کا اجرا کیوں کیا ہے؟

اصل رقم سے 5 گنا زائد 25 کروڑ ڈالر کے بانڈز پر ایک ارب 26 کروڑ ڈالر کی پیش کشیں موصول ہوئیں، اعلامیہ
شائع 14 مئ 2026 10:18pm

پاکستان نے چین کی مالیاتی منڈی میں اپنا پہلا ”پانڈا بانڈ“ کامیابی سے جاری کردیا ہے، جس سے اصل رقم سے 5 گنا زائد 25 کروڑ ڈالر کے بانڈز پر ایک ارب 26 کروڑ ڈالر کی پیش کشیں موصول ہوئیں۔

پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار دنیا کی دوسری بڑی کیپٹل مارکیٹ تک رسائی حاصل کی ہے اور آج پانڈا بانڈ 3 سالہ مدت کے لیے چینی کرنسی (یوآن) میں جاری کردیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان نے 1.75 ارب یوآن کے بانڈز پیش کیے جب کہ سرمایہ کاروں کی طرف سے 8.8 ارب یوآن کی پیش کشیں موصول ہوئیں جو پانڈا بانڈز کے لیے اصل رقم سے 5 گنا زیادہ ہیں، سرمایہ کاروں کی اس قدر دلچسپی پاکستان کی معاشی اصلاحات اور مستحکم معیشت پر عالمی اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ مضبوط ڈیمانڈ کی وجہ سے پاکستان کو یہ سرمایہ صرف %2.5 کی کم شرح سود پر ملا ہے ، اس سے پاکستان کے لیے چین کی بڑی مالیاتی منڈی کے دروازے کھل گئے ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ دنیا بھر سے نئے سرمایہ کار پاکستان کی معیشت میں حصہ لے رہے ہیں، یہ کامیابی عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی ساکھ اور قرض ادا کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔

خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ اب دنیا بھر سے نئے سرمایہ کار پاکستان کی معیشت میں حصہ لے رہے ہیں، اس اقدام سے دونوں ملکوں کے درمیان مالیاتی تعاون مزید مضبوط ہوا ہے، یہ کامیابی عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی ساکھ اور قرض ادا کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔

خرم شہزاد کے مطابق پاکستان اب بحرانوں سے نکل کر استحکام اور طویل مدتی ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے، یہ کامیابی ایک نئے باب کا آغاز ہے جس میں پاکستان عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک قابل بھروسہ ملک کے طور پر ابھرا ہے۔

پانڈا بانڈ کیا ہے؟

’پانڈا بانڈ‘ کا نام چین کے جانور اور قومی علامت پانڈا کے نام پر رکھا گیا ہے، جیسے جاپان میں اس کو ’سامورائی بانڈ‘ اور انڈیا میں ’مصالحہ بانڈ‘ کہا جاتا ہے۔

پانڈا بانڈ جاری کرنا دراصل قرض حاصل کرنے کی ایک قسم ہے، جس میں پاکستان چین میں بانڈ جاری کر کے اسے چین کی مقامی مارکیٹ میں فروخت کرے گا، جس سے پاکستان کو قرضہ ملے گا اور اس کے بعد سود سمیت اسے واپس کیا جائے گا۔

آسان الفاظ میں بات کی جائے تو پاکستان کی جانب سے چین میں پانڈا بانڈ جاری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان چینی مارکیٹ سے چینی کرنسی یوان میں قرض لیتا ہے اور یہی قرض چین کی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

سرمایہ کار بانڈز خرید کر پاکستان کو چینی کرنسی یوان دیں گے اور اسی یوان کرنسی کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان اپنے درآمدی بل ادا کر سکتا ہے۔

وفاقی وزارت خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق پانڈا بانڈ کا مجموعی حجم ایک ارب ڈالر ہوگا اور پہلے مرحلے میں 250 ملین ڈالر مالیت کے بانڈز جاری ہوں گے، جس سے وزارت خزانہ کے مطابق پہلی مرتبہ پاکستان کو چین کی مقامی سرمایہ کاری کی مارکیٹ تک رسائی ملے گی، جس سے معیشت مستحکم ہو سکتی ہے۔

سسٹینیبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق دنیا میں پانڈا بانڈ کی مجموعی مالیت 133 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس میں 55 فیصد بانڈ امریکہ اور چین نے جاری کیے تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق چین کی بانڈ مارکیٹ میں گذشتہ تین سالوں میں 13 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

اسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان نے 2024 میں پانڈا بانڈ میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد سنگل کرنسی یعنی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یوان میں تجارت اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنا تھا، کیونکہ چینی سرمایہ کار مقامی کرنسی میں تجارت کو ترجیح دیتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ خلیج فارس میں کشیدہ صورت حال کی وجہ سے پاکستانی معیشت استحکام کی جانب بڑھی ہے، حالانکہ کشیدہ صورت حال اور آبنائے ہرمز کی بندش سے معیشت پر بوجھ ضرور پڑا ہے۔

پاکستان عمومی طور پر ڈالر میں تجارت کرتا ہے اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ سے مقامی کرنسی پر بوجھ پڑتا ہے، جس سے معیشت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

Read Comments