آبنائے ہرمز کی گہرائیوں میں پڑے نئے طاقتور ہتھیار پر ایران کی نظریں

تیل کے بعد اب ٹیک کی دنیا کا کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ
شائع 17 مئ 2026 11:58am

آبنائے ہرمز کو عام طور پر صرف تیل کی سپلائی کے ایک اہم عالمی راستے کے طور پر جانا جاتا ہے، لیکن اب ایران اس سمندری راستے کی گہرائیوں میں چھپی دنیا کی ایک اور بڑی طاقت پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ یہ طاقت کوئی تیل یا گیس نہیں، بلکہ سمندر کی تہہ میں بچھی وہ انٹرنیٹ کیبلز ہیں جو یورپ، ایشیا اور خلیجی ممالک کے درمیان کھربوں ڈالر کے مالیاتی لین دین اور انٹرنیٹ ڈیٹا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہیں۔ ایران اب ان زیرِ سمندر کیبلز کو اپنے طویل مدتی معاشی اور تزویراتی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ایرانی قانون سازوں اور حکام نے حال ہی میں ایک ایسے منصوبے پر بات چیت کی ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز پر فیس یا ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذولفقاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کھلم کھلا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم انٹرنیٹ کیبلز پر فیس عائد کریں گے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ میڈیا کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت گوگل، مائیکروسافٹ، میٹا اور ایمیزون جیسی دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایرانی قوانین کی پابندی کرنی ہوگی۔

ان کمپنیوں کو اپنے کیبلز کو گزارنے کے بدلے لائسنس فیس دینی ہوگی اور ان کیبلز کی مرمت اور دیکھ بھال کے تمام حقوق بھی صرف ایرانی کمپنیوں کے پاس ہوں گے۔

ایرانی میڈیا نے مبہم انداز میں یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر کمپنیوں نے یہ فیس ادا نہ کی تو انٹرنیٹ ٹریفک کو معطل یا متاثر کیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ ایران یہ دھمکیاں دے رہا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پر عمل کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔

امریکی پابندیوں کی وجہ سے عالمی ٹیک کمپنیاں ایران کو کسی قسم کی ادائیگی نہیں کر سکتیں، اس لیے وہ ان بیانات کو سنجیدہ پالیسی کے بجائے صرف سیاسی پوزیشننگ یا گیدڑ بھبکی کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

بلومبرگ اکنامکس میں مشرقِ وسطیٰ کی ماہر ڈینا اسفندیاری کا کہنا ہے کہ ایران کا مقصد عالمی معیشت پر اتنا بھاری دباؤ ڈالنا ہے کہ کوئی بھی دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرے۔

ڈینا کے مطابق ایرانی حکام نظریاتی طور پر جانتے ہیں کہ ان کے پاس اس راستے کا کنٹرول موجود ہے، لیکن وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان دھمکیوں کا دنیا پر کتنا اثر ہوتا ہے۔

بین الاقوامی آپریٹرز ایران کے ساتھ سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے عام طور پر ایرانی سمندری حدود سے بچتے ہیں اور زیادہ تر کیبلز عمان کی طرف سے گزاری گئی ہیں، لیکن ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مالڈن کے مطابق فالکن اور جی بی آئی نامی دو بڑی کیبلز اب بھی ایرانی حدود سے گزرتی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے ہبتور ریسرچ سینٹر کے سینئر محقق مصطفیٰ احمد کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنے غوطہ خوروں، چھوٹی آبدوزوں یا انڈر واٹر ڈرونز کے ذریعے ان کیبلز کو نشانہ بناتا ہے تو اس سے کئی براعظموں میں ایک بڑی ڈیجیٹل تباہی آ سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف انٹرنیٹ سلو ہوگا بلکہ بینکنگ سسٹمز، فوجی مواصلات اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ بھارت کی اربوں ڈالر کی آؤٹ سورسنگ انڈسٹری اور یورپی مالیاتی بازاروں کو اس سے شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ایرانی میڈیا اس منصوبے کو قانونی ثابت کرنے کے لیے مصر کی مثال دے رہا ہے، جو سویز نہر سے گزرنے والی کیبلز سے سالانہ کروڑوں ڈالر کماتا ہے۔

تاہم، بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سویز نہر مصر نے خود کھودی تھی جبکہ آبنائے ہرمز ایک قدرتی راستہ ہے۔

لندن کی سوآس یونیورسٹی کی پروفیسر ایرینی پاپانیکولوپولو نے اس حوالے سے سی این این کو بتایا کہ موجودہ کیبلز کے معاملے میں ایران کو ان معاہدوں کا پابند ہونا پڑے گا جو کیبل بچھاتے وقت کیے گئے تھے، لیکن نئے کیبلز کے لیے کوئی بھی ملک بشمول ایران یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کی سمندری حدود میں کس شرط پر کیبل بچھائی جائے گی۔

یوں تو یہ کیبلز عالمی نیٹ ورک کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں، لیکن موجودہ جنگی حالات میں اگر ان کو نقصان پہنچا تو ان کی فوری مرمت کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن جائے گا۔

Read Comments