غیر ملکی یوٹیوبر نے 140 سال پرانا قرض ادا کر کے پاکستانی خاندان کو غلامی سے چھڑا لیا
پاکستان کے ضلع قصور میں اینٹوں کے بھٹے پر نسلوں سے جبری مشقت کرنے والے ایک خاندان کی آزادی کی خبر نے سوشل میڈیا پر لوگوں کو جذباتی کر دیا ہے۔ ایرن ہچنگز نامی ایک غیر ملکی نے خاندان کا پرانا قرض ادا کر کے انہیں تقریباً 140 سال بعد اس نظام سے نجات دلائی، جس میں خاندان کی چار نسلیں پھنسی ہوئی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ خاندان کئی دہائیوں سے بھٹے پر کام کر رہا تھا۔ ان پر موجود قرض نسل در نسل منتقل ہوتا رہا، جس کے باعث خاندان کے افراد اپنی پوری زندگی محنت مزدوری کرنے کے باوجود اس قرض سے آزادی حاصل نہ کر سکے۔ اس نظام میں اکثر مزدور خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لیتے ہیں، لیکن سود، کم اجرت اور دیگر اخراجات کی وجہ سے قرض ختم ہونے کے بجائے بڑھتا رہتا ہے۔
ایرن ہچنگز نے “پروجیکٹ جوبلی” کے ذریعے اس خاندان کی مدد کی، جو ایسے افراد اور خاندانوں کو آزادی دلانے کے لیے کام کرتا ہے جو جبری مشقت یا قرض کے بدلے مزدوری کے نظام میں پھنسے ہوتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس منصوبے کے تحت یہ پانچواں خاندان ہے جسے آزاد کرایا گیا ہے۔
ایرن ہچنگز ایک انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر جانے جاتے ہیں جو مختلف ممالک میں جبری مشقت کے شکار افراد کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔
قرض کی ادائیگی کے بعد خاندان کو آخرکار بھٹے سے نکلنے اور آزاد زندگی گزارنے کا موقع ملا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آنے کے بعد ہزاروں افراد نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ کئی صارفین نے حیرت ظاہر کی کہ جدید دور میں بھی ایسے حالات موجود ہیں جہاں لوگ اپنے آباؤ اجداد کے قرض کی وجہ سے غلامی جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بہت سے لوگوں نے ایرن ہچنگز کے اقدام کو انسانیت کی مثال قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے صرف باتیں کرنے کے بجائے عملی قدم اٹھایا۔ کچھ صارفین نے اس واقعے کو غربت، استحصال اور معاشی کمزوری کے درمیان گہرے تعلق کی یاد دہانی بھی قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق جبری مشقت اور قرض کے بدلے مزدوری کا نظام کئی ممالک میں غیر قانونی ہے، لیکن غریب اور کمزور طبقات اب بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے خاندان اکثر مالی مشکلات کے باعث مالکان پر انحصار کرنے لگتے ہیں اور پھر اس چکر سے باہر نکلنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر زیادہ تر لوگوں کی توجہ خاندان کی رہائی کے جذباتی پہلو پر رہی۔ صارفین کا کہنا تھا کہ چار نسلوں کے بعد آزادی ملنا صرف قرض ختم ہونے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے بوجھ کا خاتمہ ہے جس نے کئی نسلوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔
کئی افراد نے اس واقعے کو انسانیت کی بہترین مثال قرار دیا، جبکہ بعض نے کہا کہ ایک شخص کا قدم پورے خاندان کا مستقبل بدل سکتا ہے۔