'کرائے کے ماتمی'؛ قدیم روایت جہاں پیشہ ور افراد غم میں رونے کا معاوضہ لیتے ہیں

مصر سے چین اور بھارت سے برطانیہ تک، 'پیشہ ور ماتمی' آج بھی کئی معاشروں میں موت کی رسومات کا اہم حصہ ہیں
اپ ڈیٹ 19 مئ 2026 03:53pm

کسی جنازے میں زور زور سے رونے، سینہ کوبی کرنے یا بین ڈالنے والے افراد کو دیکھ کر عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ مرحوم کے قریبی عزیز ہوں گے۔ مگر دنیا کے مختلف خطوں میں صدیوں پرانی ایسی روایت بھی موجود ہے جہاں بعض لوگ غم منانے کے لیے باقاعدہ معاوضہ لیتے ہیں۔ ’پیشہ ور ماتمی‘ یا ’موئیرو لوجسٹ‘ کہلانے والے یہ افراد نہ صرف جنازوں میں شریک ہوتے ہیں بلکہ سوگوار خاندانوں کے جذباتی بوجھ کو بانٹنے کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔

اگرچہ جدید دور میں یہ روایت پہلے جتنی عام نہیں رہی لیکن دنیا کے کئی ممالک میں آج بھی پیشہ ور ماتم داری ایک باقاعدہ پیشہ سمجھی جاتی ہے۔ ان افراد کو مختلف ثقافتوں میں الگ الگ ناموں سے جانا جاتا ہے، مگر ان کا بنیادی کام ایک ہی ہوتا ہے، مرنے والے کے لیے غم کا اظہار کرنا، چاہے ان کا مرحوم سے کوئی ذاتی تعلق نہ ہو۔

ماہرین کے مطابق پیشہ ورانہ سوگ منانے کی روایت ہزاروں برس پرانی ہے اور اس کے آثار قدیم مصر، روم، چین اور مشرقِ وسطیٰ کی تہذیبوں میں ملتے ہیں۔

مصر میں قائم امریکن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق قدیم مصر میں اس پیشے کے لیے سخت قواعد موجود تھے۔ صرف بے اولاد خواتین کو ہی ماتم دار بننے کی اجازت تھی۔ اس دور میں مردوں کے لیے عوامی طور پر رونا معیوب سمجھا جاتا تھا، اسی لیے خواتین ماتم داروں کی اہمیت زیادہ تھی۔ ان خواتین کے کندھوں پر دیویوں کے نام گدوائے جاتے تھے تاکہ وہ جنازے میں روحانی علامت کے طور پر شریک ہو سکیں۔

قدیم روم میں بھی دولت مند خاندان جنازوں میں پیشہ ور ماتم داروں کو بلاتے تھے۔ وہاں جنازے میں جتنے زیادہ رونے والے موجود ہوتے، اسے اتنی ہی عزت اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا۔ بلند آواز میں رونا، کپڑے پھاڑنا اور بال نوچنا غم کے قابلِ احترام اظہار مانے جاتے تھے۔

وقت کے ساتھ یہ روایت مختلف معاشروں میں تبدیل ہوتی گئی۔ آج کے پیشہ ور ماتم دار ماضی کی طرح ڈرامائی انداز میں غم کا اظہار کم کرتے ہیں، تاہم ان کا کردار اب بھی ثقافتی اور جذباتی طور پر اہم سمجھا جاتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے حال ہی میں کینیا میں کرائے داروں پر ایک فیچر اسٹوری شائع کی ہے جس کے مطابق کینیا کے مغربی علاقوں میں، خاص طور پر جھیل وکٹوریہ کے اطراف آباد لوؤ برادری میں، جنازے صرف سوگ کی تقریبات نہیں بلکہ ایک سماجی اور روحانی روایت بھی سمجھے جاتے ہیں۔

یہاں بلند آواز میں رونا، گیت گانا، زمین پر شاخیں پٹخنا اور اجتماعی ماتم کرنا مرنے والے کے احترام اور بری روحوں کو دور رکھنے کا ایک طریقہ تصور کیا جاتا ہے۔ پیشہ ور ماتم داروں کا کردار اب ایک مستقل اور نسبتاً منافع بخش روزگار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کرائے کے ماتمیوں کے مطابق وہ دوسروں کے غم میں شریک ہونے کے لیے اپنے ذاتی دکھوں کو محسوس کرکے غمگین کیفیت اختیار کرتے ہیں۔

کرائے پر ماتم کرنے والوں کی یہ روایت صرف کینیا تک محدود نہیں ہے، بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی یہ باقاعدہ ایک منافع بخش روزگار اور قدیم ثقافت کا حصہ ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں یہ روایت الگ الگ شکلوں میں موجود ہے۔

چین میں آج بھی بعض علاقوں میں جنازوں کے لیے پیشہ ور ماتم داروں کی خدمات حاصل کرنا عزت اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ چینی ثقافت میں جہاں عمومی حالات میں عوامی جذبات کا اظہار کم کیا جاتا ہے، مگر جنازے کے موقع پر رونا ضروری تصور کیا جاتا ہے۔

اسی لیے بعض خاندان کرائے کے سوگوار افراد کو بلاتے ہیں تاکہ مناسب انداز میں غم کا اظہار کیا جا سکے، اس روایت کو ’کو سانگ‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ’رونا اور سوگ منانا‘ جب کہ بین کرنے والی خواتین کو ’کو سانگ پو‘ (رونے والی خواتین) کہا جاتا ہے۔

دی ورلڈ فار چائینز نامی جریدے کے مطابق چین میں بعض پیشہ ور ماتم دار اتنے مقبول ہیں کہ وہ میت کی آخری رسومات میں صرف روتے ہی نہیں بلکہ باقاعدہ ڈرامائی پرفارمنس دیتے ہیں جس میں وہ گھٹنوں کے بل چل کر تابوت تک جاتے ہیں، موسیقی بجاتے ہیں اور بعد میں میت کی روح کو خوش کرنے کے لیے رقص بھی کرتے ہیں۔

چین کے سرکاری میڈیا گلوبل ٹائمز کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق، یہ پیشہ ور ماتم دار اس کام سے سالانہ 2 لاکھ یوآن تک کما لیتے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ اس سروس کی مانگ کتنی زیادہ ہے۔

بھارت کی ریاست راجستھان کے صحرائے تھر، جیسلمیر، جودھ پور اور باڑمیر جیسے علاقوں میں بھی یہ صدیوں پرانی روایت موجود ہے جہاں رودالی (رونے والی خاتون) نامی خواتین اس روایت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ خواتین جنازوں میں سینہ کوبی، چیخ و پکار اور بین کے ذریعے غم کا اظہار کرتی ہیں، بعض اوقات 12 روز تک جاری رہنے والی رسومات میں بھی شریک رہتی ہیں۔ کسی خاندان کی سماجی حیثیت کا اندازہ بھی اس بات سے لگایا جاتا تھا کہ ان کے جنازے میں سوگ کی شدت کتنی ہے۔

بھارتی مصنفہ ندھی ڈوگر کنڈالیا کی مشہور کتاب ’دی لوسٹ جنریشن‘ کے مطابق یہ روایت اب صرف چند دور دراز دیہاتوں تک محدود رہ گئی ہے۔

اسی کتاب میں راجستھان کے ایک جاگیردار کا قول نقل ہے کہ ’ہم اپنے گھر کی خواتین کو باہر تماشہ بننے کی اجازت نہیں دیتے۔ اونچی ذات کی خواتین عام لوگوں کے سامنے رو کر اپنا وقار خراب نہیں کرتیں، اس لیے یہ کام نچلی ذات کی رودالی خواتین سے کروایا جاتا ہے‘۔

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ راجستھان میں جاگیردارانہ نظام کے خاتمے، تعلیم کے فروغ اور نچلی ذات کی خواتین میں بیداری کی وجہ سے نئی نسل نے اس پیشے کو اپنانے سے انکار کر دیا ہے۔

تامل ناڈو کے کچھ حصوں میں ’اوپاری‘ نامی روایتی لوک فن موجود ہے، جس میں خواتین جنازوں پر مرنے والے کی زندگی کی کہانیاں گیتوں اور بین کی شکل میں گا کر روتی ہیں۔ تاہم یہاں پیشہ ور افراد کے بجائے خاندان کے قریبی لوگ ہی یہ رسومات ادا کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جدید دور میں ترقی میں سب آگے سمجھے جانے والے ممالک امریکا اور برطانیہ میں یہ سروس کمرشل بنیادوں پر آج بھی دستیاب ہے۔

برطانیہ میں کرائے کی ماتم داری کی روایت وکٹورین دور میں شروع ہوئی تھی، اس دور میں سوگ کو ایک باقاعدہ سماجی رسم کی حیثیت حاصل تھی۔ امیر خاندان جنازوں میں پیشہ ور ماتم داروں کو بلاتے تھے تاکہ مرنے والے کے لیے غم کا اظہار کیا جاسکے۔

ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں آج بھی یہ سروس باقاعدہ کاروباری شکل میں فعال ہے۔ اگرچہ اس شعبے کو کمرشلائز کرنے کی بنیاد رکھنے والی مشہور ترین کمپنی ’رینٹ اے مورنر‘ اب آپریشنز بند کر چکی ہے لیکن اس کی جگہ برطانیہ کی بڑی پروموشنل اور کراؤڈ ہائرنگ ایجنسیوں نے لے لی ہے اور فیس بک گروپس میں ان افراد کی بھرتیوں کے اشتہارات عام ہیں۔

یہ کمپنیاں اب پورے برطانیہ میں باقاعدہ کرائے کے ماتمی فراہم کرتی ہیں۔ یہ خدمات تب حاصل کی جاتی ہیں جب مرنے والا بہت بوڑھا ہو اور اس کے تمام ہم عمر دوست انتقال کر چکے ہوں، یا وہ خاندان اس علاقے میں نیا منتقل ہوا ہو اور جنازے میں حاضری کم ہونے کا خدشہ ہو۔

امریکا میں یہ سروس برطانیہ کی طرح کسی مخصوص بڑی کمپنی کے تحت کمرشلائز نہیں ہوسکی، بلکہ یہ زیادہ تر کاسٹنگ ایجنسیوں، فری لانسرز اور مخصوص روایتی فیونرل ہومز کے ذریعے کام کرتی ہے۔

امریکی میں آخری رسومات کی تقریبات کے انتظامات کرنے والی ایک ایجنسی کے مطابق امریکا میں پیشہ ور ماتم داروں کی مانگ اب بھی موجود ہے اور یہ ان خاندانوں کے لیے ایک اہم ضرورت ہے جو اکیلے پن کا شکار ہوتے ہیں یا جنازے کا ماحول بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پیشہ ور ماتم داری کے لیے کسی باقاعدہ ڈگری یا تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم اداکاری، جذباتی اظہار اور عوامی تقریبات میں شرکت کی صلاحیت اس کام میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بعض افراد اپنی ذاتی زندگی کے غم اور نقصان کے تجربات کو دوسروں کے دکھ سے جڑنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض لوگوں کے لیے کرائے کے ماتم داروں کا تصور غیر معمولی لگ سکتا ہے، لیکن کئی ثقافتوں میں انہیں ایک ایسی خدمت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو سوگوار خاندانوں کے جذباتی بوجھ کو کم کرنے اور جنازے کو زیادہ بامعنی بنانے میں مدد دیتی ہے۔

Read Comments