شدید گرمی اور حبس میں قربانی کا گوشت بیماریوں کا سبب، عید پر فوڈ پوائزننگ سے کیسے بچیں؟

ہسپتال کے چکروں سے بچ کرعید کی خوشیوں کو دوبالا کریں۔
شائع 20 مئ 2026 12:58pm

عید الاضحیٰ کے موقع پر ملک بھر میں شدید گرمی اور حبس کی لہر کے باعث طبی ماہرین قربانی کے گوشت کے استعمال اور اسے محفوظ کرنے کے حوالے سے اہم ہدایات دیتے ہیں۔

ہر سال عید کے ابتدائی اڑتالیس گھنٹوں میں فوڈ پوائزننگ کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق، جب کچے گوشت کو کٹنے کے بعد دو گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے فریج سے باہر چھوڑا جائے تو گرمی کی وجہ سے اس میں سالمیونیلا اور ای کولائی جیسے خطرناک جراثیم بہت تیزی سے پھیلتے ہیں، جو پیٹ کے شدید امراض کا سبب بنتے ہیں۔

عید کے دنوں میں ہسپتال کے چکروں سے بچنے کے لیے درج ذیل باتوں پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے۔

گوشت کو گلی محلوں میں براہ راست دھوپ میں کاٹنے کے بجائے کسی سایہ دار جگہ پر کاٹیں اور مکھیوں کو دور رکھنے کے لیے پنکھے کا استعمال کریں۔

کلیجی، گردے اور دل جیسے اعضاء کو عام گوشت کے ساتھ ملا کر نہ رکھیں بلکہ انہیں الگ برتن میں رکھیں اور سب سے پہلے استعمال کریں۔

گوشت بننے کے فوری بعد، یعنی دو گھنٹے کے اندر اندر، اسے فریج یا فریزر میں منتقل کر دیں۔

فریزر میں رکھنے کے لیے بڑے تھیلوں کے بجائے چھوٹے پیکٹ بنائیں تاکہ گوشت جلدی سے فریز ہو سکے۔ فریج میں حد سے زیادہ سامان بھرنے سے گریز کریں تاکہ کولنگ کم نہ ہو۔

خواتین عید کے پکوان جیسے کڑاہی، نہاری یا تکے بناتے وقت گوشت کو بہت اچھی طرح پکائیں، کیونکہ ادھ پکا گوشت جراثیموں کو ختم نہیں کرتا اور بیماری کا باعث بنتا ہے۔

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خراب گوشت کھانے سے عام طور پر دو سے چھ گھنٹے میں الٹی، تیز بخار، پیٹ میں مروڑ اور دست جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

اگر گھر میں کسی فرد، خاص طور پر بچوں یا بزرگوں کو شدید کمزوری ہو، منہ خشک ہونے لگے یا پیشاب آنا بند ہو جائے، تو خود سے دوائیاں لینے کے بجائے فوری طور پر قریبی ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ گرمی میں جسم سے پانی کا اخراج جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

Read Comments