ایران اور امریکا معاہدے کے قریب، حتمی نکات کا اعلان جلد متوقع: عرب میڈیا

العربیہ کے مطابق معاہدے کے متن کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
اپ ڈیٹ 21 مئ 2026 12:02am

ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، عرب میڈیا کے مطابق دونوں ممالک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے کے لیے تیزی سے کام جاری ہے، جب کہ معاہدے کے آخری نکات کا اعلان جلد متوقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے اہم شخصیات کی جمعرات کو ایران روانگی کا امکان ہے، جہاں جاری سفارتی مشاورت کے دوران معاہدے سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور حج سیزن کے بعد اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جہاں معاہدے کے حتمی نکات پر مزید بات چیت کی جائے گی۔

حالیہ دنوں میں پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پسِ پردہ سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں فعال کردار ادا کیا ہے، جسے مختلف علاقائی ممالک کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور سفارتی پیش رفت سے متعلق اہم نکات شامل ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہفتے کے دوران دوسری مرتبہ ایرانی دارالحکومت تہران پہنچے ہیں، جہاں ان کی ایرانی قیادت اور اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ دورہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں، خطے کی صورتِ حال اور پاکستان کی ثالثی کوششوں کے تناظر میں غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی کے قریب جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہاں کے حالات انتہائی خراب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں وقت لگ رہا ہے، تاہم امریکا تہران کو ایک اور موقع دینے جا رہا ہے اور انہیں اس معاملے میں کوئی جلدی نہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایران سے 100 فی صد درست اور مکمل جواب چاہتا ہے۔ انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے۔

بعدازاں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ اپنے وعدوں کی پاسداری کی ہے اور جنگ سے بچنے کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے تمام راستے کھلے ہیں، تاہم جبر کے ذریعے ایران کو جھکانے کی کوشش ایک وہم کے سوا کچھ نہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ سفارت کاری میں باہمی احترام جنگ کے مقابلے میں زیادہ دانش مندانہ، محفوظ اور پائیدار راستہ ہے۔

Read Comments