بھارت میں اپنی نئی سیاسی جماعت لانچ کرنے والا 'کاکروچ' کون ہے؟
بھارت کے تیس سالہ طالب علم ابھیجیت دیپکے نے انٹرنیٹ پر ملنے والے ایک طعنے کو سیاسی شناخت میں بدلتے ہوئے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی ایک نئی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔
ابھیجیت حال ہی میں بوسٹن یونیورسٹی سے پبلک ریلیشنز میں فارغ التحصیل ہوئے ہیں اورملازمت کے لیے درخواستیں دے رہے تھے کہ اسی دوران بھارت کے چیف جسٹس کے ایک بیان نے انٹرنیٹ پر نوجوانوں میں غصے کی لہر دوڑا دی۔
چیف جسٹس آف انڈیا نے سوشل میڈیا پر سرگرم نوجوانوں کو کاکروچ یعنی لال بیگ اور پیرا سائٹ سے تشبیہہ دی تھی جس پر نوجوانوں نے شدید احتجاج کیا۔
انڈیا ٹو ڈے کے مطابق ابھیجیت دیپکے نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کاکروچ کا لفظ سن کر بہت غصہ آیا اور یہ غصہ اس لیے زیادہ تھا کیونکہ یہ بات ملک کے چیف جسٹس کی طرف سے آئی تھی جو آئین کے محافظ ہیں اور ہمیں اظہارِ رائے کی آزادی دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ تبصرہ حکمران جماعت کے کسی بندے نے کیا ہوتا تو شاید اتنی ہلچل نہ مچتی، لیکن جب آپ کو اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنے والا ہی لال بیگ کہے تو زیادہ دکھ ہوتا ہے۔
ابھیجیت دیپکے کا ماننا ہے کہ یہ ردعمل دراصل بھارتی نوجوانوں، خاص طور پر نوجوان نسل کے اس شدید غصے اور مایوسی کو ظاہر کرتا ہے جو وہ نمائندگی، روزگار اور موجودہ سیاسی گفتگو پر طویل عرصے سے محسوس کر رہے ہیں۔
یہ انوکھی تحریک سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی ہے اور صرف چند ہی دنوں میں اس کے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں نوجوان جڑ چکے ہیں۔ انسٹاگرام پر ان کے فالوورز کی تعداد تینتیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ویب سائٹ پر دو لاکھ سے زیادہ لوگ باقاعدہ رجسٹر ہو چکے ہیں۔
ابھیجیت کے مطابق یہ کوئی منصوبہ بند مہم نہیں تھی بلکہ نوجوانوں کے برسوں کے دبے ہوئے غصے کا نتیجہ ہے، کیونکہ بھارت میں نوجوانوں کی سب سے بڑی آبادی موجود ہے لیکن ان کی اکثریت کے پاس روزگار نہیں ہے۔
ابھیجیت نے بتایا کہ ان کی جماعت کا مقصد نوجوانوں کی آواز کو سیاسی سطح پر پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان برسوں سے موجود سیاسی نظام سے نظر انداز کیے جا رہے ہیں اور انہیں سننے والا کوئی نہیں ہے۔ دیپکے کا کہنا ہے کہ جماعت نوجوانوں کی رائے اور مسائل کو سن کر ان کے لیے مناسب سیاسی ڈسکورس تیار کرے گی۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنی ویب سائٹ پر پانچ نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی چیف جسٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد راجیہ سبھا کی سیٹ یا کوئی سرکاری عہدہ نہ دیا جائے، خواتین کو کابینہ اور اسمبلیوں میں تینتیس فیصد کے بجائے پچاس فیصد ریزرویشن ملے اور بڑے کاروباری خاندانوں کے میڈیا لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ ابھیجیت کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسا بھارت چاہتے ہیں جہاں عدلیہ، الیکشن کمیشن اور میڈیا جیسے تمام ادارے آزاد ہوں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے مستقبل اور انتخابی سیاست میں آنے کے سوال پر ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ابھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ اس تحریک کو شروع ہوئے صرف چند دن ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اس مہم میں کسی دوسری سیاسی جماعت کو شامل نہیں ہونے دیں گے۔
بقول ابھیجیت ان کا مقصد بھارت کے سیاسی رخ کو بدلنا ہے جو پچھلے دس بارہ سال سے صرف ہندو مسلم کے موضوعات پر پھنسا ہوا ہے، جبکہ نوجوان نسل اب ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سیمی کنڈکٹر جیسے جدید موضوعات پر بات کرنا چاہتی ہے۔
فنڈنگ اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ جلد بازی میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے اس تحریک کو نقصان پہنچے، اس لیے وہ تھوڑا وقت لے کر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔
دیپکے کے مطابق یہ تحریک صرف سوشل میڈیا کا رجحان نہیں بلکہ ایک حقیقی تنظیم میں تبدیل ہو رہی ہے، جس کے پاس لاکھوں ممبرز اور فالوورز ہیں، جو بھارت کے نوجوانوں کی وسیع سیاسی نمائندگی کرتے ہیں۔