کاکروچ جنتا پارٹی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا: بانی کا دعویٰ

اس سے قبل پارٹی کا ایکس اکاؤنٹ بھی روک دیا گیا تھا۔
شائع 23 مئ 2026 09:58am

نئی دہلی میں سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ذاتی انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق وہ کئی بار اکاؤنٹ ریکور کرنے کی کوشش کر چکے ہیں، لیکن ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نوجوانوں کی اس نئی تحریک نے انٹرنیٹ پر سیاسی بحث و مباحثے میں ایک بڑا مقام بنا لیا ہے۔

ابھیجیت دیپکے کے مطابق نہ صرف ان کا ذاتی اکاؤنٹ بلکہ پارٹی کا بیک اپ انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی عارضی طور پر ہٹا دیا گیا تھا، جسے بعد میں بحال کیا گیا۔

ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، انسٹاگرام پیج ہیک ہو گیا ہے، میرا ذاتی انسٹاگرام بھی ہیک ہو چکا ہے، ٹوئٹر اکاؤنٹ روک دیا گیا ہے اور بیک اپ اکاؤنٹ بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

انہوں نے اپنے حامیوں کو خبردار کرتے ہوئے مزید لکھا کہ براہ کرم نوٹ کریں کہ اس وقت ہماری کسی بھی پلیٹ فارم تک رسائی نہیں ہے، اس کے بعد کی جانے والی کسی بھی پوسٹ کو کاکروچ جنتا پارٹی کا باضابطہ بیان تسلیم نہ کیا جائے۔


ڈپکے کے مطابق انسٹاگرام کی جانب سے ہر بار یہ پیغام موصول ہو رہا تھا کہ ”آپ کے اکاؤنٹ کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر لاک کر دیا گیا ہے، شناخت کی تصدیق اور نیا پاس ورڈ بنانے کے بعد ہی رسائی ممکن ہوگی“۔

ان کا کہنا تھا کہ متعدد کوششوں کے باوجود وہ اپنا اکاؤنٹ واپس حاصل نہیں کر سکے۔


اس سے قبل اسی ہفتے کے اوائل میں بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کا اصل ٹوئٹر یعنی ایکس اکاؤنٹ بھی روک دیا گیا تھا۔ تاہم اس گروپ نے فوری طور پر ’کاکروچ از بیک‘ کے نام سے ایک نیا اکاؤنٹ بنا کر واپسی کی اور اپنے مخالفین کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا کہ کیا آپ نے سوچا تھا کہ آپ ہم سے چھٹکارا پا لیں گے؟

انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ان کی آواز کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

محض چند روز قبل انٹرنیٹ پر ایک طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہونے والی یہ تحریک اب ملک کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی ڈیجیٹل سیاسی تحریک بن چکی ہے۔

اس پارٹی نے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد میں حکمران جماعت بی جے پی اور پھر ملک کی قدیم ترین جماعت کانگریس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

اس غیر معمولی مقبولیت کی بڑی وجہ نوجوان نسل ہے جو سوشل میڈیا پر میمز اور ویڈیوز کے ذریعے بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے آؤٹ ہونے اور سیاسی جوابدہی جیسے سنجیدہ مسائل پر آواز اٹھا رہی ہے۔

دوسری طرف اس تحریک پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ بی جے پی کے حامیوں نے اس گروپ کو قومی سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے اس کے مبینہ طور پر بیرونی روابط یا اپوزیشن پارٹیوں کی پشت پناہی کا الزام بھی لگایا ہے۔ تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔

اس کے برعکس کئی اپوزیشن رہنماؤں اور سماجی کارکنوں نے اس تحریک میں دلچسپی دکھائی ہے جس سے یہ بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی بنیاد بوسٹن میں مقیم ابھیجیت دیپکے نے رکھی ہے جو ماضی میں عام آدمی پارٹی کے لیے سوشل میڈیا مہم کا کام کر چکے ہیں۔ پارٹی نے نوجوانوں کے مسائل، امتحانی بے ضابطگیوں اور سیاسی احتساب جیسے موضوعات کو اپنی مہم کا حصہ بنایا ہے۔

اس تحریک کا آغاز چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کے اس مبینہ بیان کے بعد ہوا جس میں سوشل میڈیا پر ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے بے روزگار نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کا موازنہ کاکروچ اور طفیلوں سے کیا ہے۔

اگرچہ چیف جسٹس نے بعد میں وضاحت کی کہ ان کے بیان کو غلط پیش کیا گیا تھا، لیکن یہ معاملہ ایک بڑی آن لائن مہم میں بدل گیا۔ یہ پارٹی طنز و مزاح کے ساتھ انتخابی اصلاحات، خواتین کے تحفظات اور تعلیمی امتحانات کی بے ضابطگیوں کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے۔

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ تحریک ایک باقاعدہ سیاسی جماعت بنتی ہے یا صرف انٹرنیٹ تک محدود رہتی ہے۔

Read Comments