امریکا-ایران امن معاہدے کے ڈرافٹ پر اتفاق، آئندہ 24 گھنٹوں میں پیش رفت کا امکان

واشنگٹن ٹائمز کے مطابق امن معاہدے کے مجوزہ مسودے کی منظوری میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔
شائع 23 مئ 2026 11:47pm

امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں نئی تجاویز پر اتفاق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ واشنگٹن ٹائمز کے مطابق دونوں ممالک آئندہ 24 گھنٹوں میں اہم اعلان کر سکتے ہیں۔ امریکی اخبار کے مطابق امن معاہدے کے مجوزہ مسودے کی منظوری میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تیار کیے گئے مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری حاصل ہو گئی ہے، جس کے بعد معاہدے کو حتمی منظوری کے لیے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکاف، جیرڈ کشنر اور ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اہم شخصیات نے مجوزہ مسودے کی منظوری دے دی ہے۔

واشنگٹن ٹائمز کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی اس پیش رفت کے بعد آئندہ 24 گھنٹوں میں باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے اعلان کے بعد خطے میں مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

واشنگٹن ٹائمز نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان نے اس تمام سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار نبھایا۔

قبل ازیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجوزہ حتمی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور یہ بھی یقینی بنائے گا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو تسلی بخش انداز میں سنبھالا جائے۔

صدر ٹرمپ کا ہنا تھا کہ میں صرف ایسے معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ حاصل ہو جو ہم چاہتے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق تازہ تجاویزمیں آبنائے ہرمزکوکھولنا، بعض ایرانی اثاثے بحال کرنا اور مذاکرات جاری رکھنا شامل ہے۔

خیال رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران مکمل ہونے کے بعد ایرانی وزارت خارجہ اور مذاکراتی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا کو بتایا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیے رابطے جاری ہیں۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران اور امریکا کے مؤقف میں قربت آئی ہے، تاہم حتمی نتائج کے لیے آئندہ چند دن اہم ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے پر توجہ دے رہا ہے، جب کہ مختلف معاملات پر سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں، تاہم مذاکراتی عمل آگے بڑھ رہا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق اسماعیل بقائی نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں بتایا کہ پاکستانی وفد گزشتہ رات ایران پہنچا۔ اس سے قبل پاکستانی وزیرِ داخلہ بھی چند روز سے ایران میں موجود تھے۔ پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کا مرکزی محور ہے اور گزشتہ چند ہفتوں میں اس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

دوسری جانب بھارت کے دورے پر موجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ ایران سے متعلق سفارتی کوششیں جاری ہیں اور پس پردہ مختلف سطح پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے آج، کل یا آئندہ چند روز میں اس حوالے سے کوئی اہم پیش رفت سامنے آ جائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ حالیہ مشرق وسطیٰ بحران میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت تصور کی جائے گی۔

Read Comments