ایران مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش؟ امریکی میڈیا کا دعویٰ

ٹرمپ کی مسلم رہنماؤں سے فون پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی خواہش کا اظہار، لنڈسے گراہم کی پاکستان، سعودی عرب اور قطر کو دھمکی
شائع 25 مئ 2026 12:22pm

امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے بدلے کئی عرب اور مسلم ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران ایک موقع پر خاموشی چھا گئی تو ٹرمپ نے پوچھا، ’’آپ لائن پر ہیں یا نہیں؟‘‘

دوسری جانب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پاکستان، سعودی عرب اور قطر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل کو تسلیم نہ کیا گیا تو ’’خطرناک نتائج‘‘ سامنے آسکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران سے مذاکرات اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں سفارتی دباؤ میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، تاہم متعلقہ ممالک کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بھی اشارہ دیا کہ شاید ایران بھی مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرسکتا ہے، تاہم عرب اور مسلم رہنماؤں نے اس تجویز پر خاموشی اختیار کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کو اس ممکنہ معاہدے میں کوئی بڑا سفارتی فائدہ دینا چاہتے ہیں، لیکن اسرائیلی حکام خود اس مجوزہ ڈیل پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق سینئر اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاہدہ ’’اسرائیل کے مفاد میں نہیں‘‘ جبکہ بعض حکام نے اسے ’’خراب اور انتہائی مسئلہ خیز ڈیل‘‘ قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ مجوزہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل منصوبے اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت جیسے اہم معاملات کو نظر انداز کررہا ہے۔

اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ اگر 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کردی گئی تو ایران کو معاشی اور عسکری بحالی کا وقت مل جائے گا، جس کے بعد امریکا اور اسرائیل کے لیے دوبارہ کارروائی کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ان کی جانب سے طے پانے والا کوئی بھی معاہدہ “مناسب اور بہترین” ہوگا جبکہ معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو انہوں نے ’’ناکام لوگ‘‘ قرار دیا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ’’72 گھنٹوں میں کسی کاغذ کے ٹکڑے پر نہیں ہوسکتا‘‘۔

Read Comments