تیل اور ایل این جی لے جانے والے جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر پاکستان اور چین روانہ

عراقی خام تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر تقریباً تین ماہ پھنسے رہنے کے بعد ہفتے کے روز خلیج سے نکل گیا
شائع 25 مئ 2026 03:34pm

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں شدید کشیدگی کے باوجود ایل این جی اور خام تیل بردار کئی جہاز خلیج سے نکل کر پاکستان، چین اور بھارت کی جانب روانہ ہوگئے۔

شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ چند روز میں تین مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرچکے ہیں، جبکہ عراقی خام تیل سے بھرا ایک سپر ٹینکر تقریباً تین ماہ بعد خلیج سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔

رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے جاری امریکا۔اسرائیل اور ایران جنگ نے آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔

ایل این جی بردار جہاز ’’فویریت‘‘ پیر کے روز آبنائے ہرمز عبور کرگیا اور توقع ہے کہ وہ منگل کو پاکستان میں اپنا کارگو اتارے گا۔ جہاز نے قطر کی راس لفان بندرگاہ سے مارچ کے آخر میں ایل این جی لوڈ کی تھی۔

اسی طرح ’’الریان‘‘ نامی ایل این جی ٹینکر بھی آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے۔ یہ جہاز بھی قطر کے راس لفان پورٹ سے روانہ ہوا تھا اور اب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے سے باہر موجود ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ 27 جون کو چین میں اپنا کارگو اتارے گا۔

ادھر ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے زیر انتظام ’’الحمرا‘‘ نامی جہاز بھی آبنائے عبور کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ جہاز آخری بار اپریل میں آبنائے کے مشرق میں دیکھا گیا تھا جبکہ اب بھارت کے ساحل کے قریب موجود ہے۔

علاوہ ازیں ’’ایگل ویرونا‘‘ نامی سپر ٹینکر، جو ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے نکلا، چین کی مشرقی بندرگاہ ننگبو پہنچنے والا ہے جہاں وہ تقریباً 20 لاکھ بیرل بصرہ خام تیل اتارے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ سے قبل روزانہ 125 سے 140 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، تاہم اب صورتحال انتہائی محدود ہوچکی ہے۔ خلیج میں سینکڑوں جہازوں پر موجود تقریباً 20 ہزار ملاح اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

Read Comments