ایران کا نئے دفاعی نظام کے ذریعے خلیج میں ’دشمن ڈرون‘ مار گرانے کا دعویٰ

یہ کارروائی ایران کی فضائی خود مختاری اور دفاعی تیاری کا مظہر ہے: ایرانی حکام
شائع 25 مئ 2026 07:47pm

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے نئے دفاعی نظام کے ذریعے خلیج فارس کی فضائی حدود میں ایک غیر ملکی ’دشمن ڈرون‘ کو کامیابی سے نشانہ بنا کر مار گرایا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ پیر کی رات خلیج فارس کے اوپر ایک ڈرون کی نشاندہی کی گئی جو مبینہ طور پر حساس فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔ حکام کے مطابق اس ڈرون کو جدید اور مقامی طور پر تیار کردہ دفاعی نظام کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔

ایرانی حکام نے اس کارروائی کے حوالے سے بیان میں کہا کہ یہ اقدام واضح پیغام ہے کہ کوئی بھی ریڈار سے بچنے والا ڈرون خلیج فارس کی فضاؤں میں داخل نہیں ہو سکتا تاہم انہوں نے اس دفاعی نظام کی تکنیکی تفصیلات کو خفیہ قرار دیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ کارروائی ایران کی فضائی خود مختاری اور دفاعی تیاری کا مظہر ہے اور اس سے خطے میں کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دینے کی صلاحیت ظاہر ہوتی ہے۔

اسی دوران ایرانی حکام نے کہا ہے کہ اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ بیان کے مطابق وہ تمام بحری جہاز جنہیں اجازت نامے جاری کیے گئے تھے، توقع ہے کہ وہ آج رات تک اس راستے سے اپنی آمد و رفت مکمل کر لیں گے۔

حکام نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی منظم نگرانی اور سیکیورٹی کے انتظامات کے باعث شپنگ آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں۔

24 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز سے 32 جہاز گزارے: ایران

دوسری جانب ایرانی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے 32 بحری جہازوں کو کامیابی کے ساتھ گزارا گیا، جنہیں پاسداران انقلاب کی نگرانی، سیکیورٹی اور باہمی رابطہ کاری کے بعد اجازت دی گئی۔

ایرانی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق گزرنے والے جہازوں میں آئل ٹینکرز، کنٹینر شپ اور دیگر تجارتی بحری جہاز شامل تھے۔

ایرانی حکام نے خطے کی موجودہ صورت حال کے پیشِ نظر اس اہم آبی گزرگاہ کو عمومی بحری آمدورفت کے لیے محدود رکھا ہوا ہے جب کہ مخصوص درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد محدود تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔

Read Comments