امن کی کوششوں کو جھٹکا، امریکا نے ایران پر ایک بار پھر حملہ کردیا

حملوں میں ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کیا گیا ہے: سینٹ کام
شائع 26 مئ 2026 08:42am

مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے، امریکا نے ایران کے جنوبی علاقے میں فوجی کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق حملوں میں ایران کی میزائل لانچنگ سائٹس اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کیا گیا ہے۔

امریکی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیاں امریکی فوجیوں کے دفاع میں کی گئیں، کیونکہ ایرانی فورسز خطے میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، جو بین الاقوامی بحری راستوں اور امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں۔

سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا کہ امریکی فوج جاری جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی افواج کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہے۔

کیپٹن ہاکنز کا کہنا تھا کہ حملوں کا ہدف بندر عباس کے قریب ایک علاقہ تھا۔ بندر عباس جنوبی ایران کا ایک بندرگاہی شہر ہے اور یہاں ایرانی بحری اڈہ موجود ہے، جو آبنائے ہرمز پر واقع ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہی علاقہ حملوں کا مرکز تھا۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سننے کے بعد مقامی حکام تحقیقات کر رہے ہیں۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ انہوں نے منگل کے روز ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور وزیر خارجہ کی قطر کے وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی جانب اشارہ کیا۔

بھارت کے سرکاری دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو کا کہنا تھا کہ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہم پیش رفت کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں ابتدائی دستاویز کی مخصوص زبان پر کافی بات چیت جاری ہے، اس لیے اس میں چند دن لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے “معاہدہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، وہ یا تو ایک اچھا معاہدہ کریں گے یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا گزشتہ روز میڈیا بریفنگ میں کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم تنازع کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کا ہونا فوری طور پر متوقع نہیں۔

ایران نے اب تک تازہ امریکی حملوں پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ ان حملوں کا امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ امن معاہدے پر کیا اثر پڑے گا۔

Read Comments