چین کی ایران جنگ پر پاکستانی کوششوں کی تعریف، تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے بعد دونوں ملکوں کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان اور چین نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، سی پیک کے منصوبوں کو تیز کرنے، علاقائی سلامتی پر تعاون بڑھانے اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں کشمیر، تائیوان، دہشت گردی، مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال اور اقتصادی روابط سمیت اہم علاقائی و عالمی معاملات پر مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
پاکستان اور چین کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف نے چینی ہم منصب لی چیانگ کی دعوت پر چین کا چار روزہ سرکاری دورہ کیا۔ اس دوران وزیراعظم شہباز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جب کہ وزیراعظم لی چیانگ کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے۔
اس موقع پر دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین کی 75 سالہ دوستی وقت کے ہر امتحان پر پورا اتری ہے اور بدلتی عالمی صورت حال میں اس شراکت داری کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ دونوں ممالک نے ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط اور مثالی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان نے ’ون چائنا پالیسی‘ کے عزم کو دہراتے ہوئے تائیوان، سنکیانگ، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین کے معاملات پر چین کے مؤقف کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دوسری جانب چین نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
چین نے کشمیر سے متعلق اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوں کے مطابق پُرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے۔
پاکستان نے چین کی جانب سے ’ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن‘ کے قیام کی تجویز کی بھرپور حمایت کی اور مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کی جانب ٹھوس قدم قرار دیتے ہوئے تعاون کا اعلان کیا۔
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے مشترکہ منصوبے ’پاک چین اقتصادی راہداری‘ (سی پیک) کے نئے منصوبوں کو اعلیٰ معیار پر استوار کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈیشن، گوادر بندرگاہ کو علاقائی رابطہ مرکز میں تبدیل کرنے اور سی پیک منصوبوں میں تیسرے فریق کی شمولیت کی حوصلہ افزائی پر بھی اتفاق کیا گیا۔
شہبازشریف کے دورۂ چین کے موقع پر دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا جب کہ پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، صنعتی منتقلی اور دیگر معاشی شعبوں میں تقریباً 7 ارب ڈالر کے تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے۔
اعلامیے میں صنعتی تعاون، ٹیکسٹائل، گھریلو آلات، معدنیات، تیل و گیس کی تلاش اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، مالیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق، آبی وسائل اور بحری امور سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
چین نے دو پاکستانی خلا بازوں کو تربیت کے لیے مدعو کرنے کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔ اعلامیے میں یہ تاریخی اعلان کیا گیا ہے کہ ایک پاکستانی خلا باز ابتدائی مرحلے میں ’چائنا اسپیس اسٹیشن‘ میں داخل ہونے والا پہلا غیر ملکی خلا باز ہوگا۔ اس کے علاوہ، چین نے ایک ہزار پاکستانی زرعی ماہرین کی تربیت مکمل ہونے پر مبارکباد دی اور 2025-2029 کے دوران مزید 3 ہزار تربیتی مواقع فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چین نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ’اسلام آباد مذاکرات‘ کے انعقاد کو سراہا۔ دونوں ممالک نے خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
مشترکہ اعلامیے میں جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام تنازعات مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔
اعلامیے میں انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں مزید مضبوط بنانے اور پاکستان میں موجود چینی شہریوں، منصوبوں اور تنصیبات کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
افغانستان سے متعلق دونوں ممالک نے قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی گروہ کو خطے کا امن خراب کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
مشترکہ اعلامیے میں دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کی ’آہنی دوستی‘ بدلتی عالمی صورت حال میں مزید اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر چکی ہے اور یہ شراکت داری خطے کے امن، استحکام اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
دورے کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں متعدد تعاون کی دستاویزات پر دستخط بھی کیے گئے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی حکومت اور عوام کی جانب سے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا۔