اسرائیلی وزیراعظم کا غزہ کے 70 فیصد حصے پر قبضے کا اعلان

امریکی حمایت کے بعد نیتن یاہو کی جارحانہ پالیسی مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔
شائع 28 مئ 2026 11:07pm

امریکی حمایت کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جارحانہ پالیسی مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔ انہوں نے غزہ کے 70 فیصد حصے پر قبضہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج سے کہہ دیا ہے غزہ کے 70 فیصد پر قابض ہوجاؤ۔ دوسری جانب حماس نے اسرائیلی اقدامات کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جب کہ غزہ میں لاکھوں فلسطینیوں کی بے دخلی کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ اسرائیل غزہ میں حماس کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر رہا ہے۔

نتین یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے تقریباً 60 فیصد علاقے میں موجود ہے جب کہ پہلے یہ شرح 50 فیصد تھی۔ ان کے مطابق انہوں نے فوج کو مرحلہ وار کارروائی کرتے ہوئے پہلے 70 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج بتدریج غزہ میں اپنی موجودگی بڑھا رہی ہے اور حماس پر دباؤ مزید سخت کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی تقریر کے دوران کانفرنس میں موجود بعض افراد نے پورے غزہ پر قبضے کے نعرے بھی لگائے۔

اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کی جانب سے اپریل کے آخر میں بین الاقوامی امدادی اداروں کو جاری کردہ نقشوں میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی فورسز پہلے ہی غزہ کے تقریباً 64 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق غزہ کے مزید علاقوں پر قبضے کی صورت میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو مزید محدود اور تباہ حال علاقوں میں منتقل ہونا پڑ سکتا ہے۔

اکتوبر 2025 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج ایک مخصوص حد بندی لائن، جسے ییلو لائن کہا جاتا ہے، تک واپس گئی تھیں۔ اس وقت یہ علاقہ غزہ کے تقریباً 53 فیصد حصے پر مشتمل تھا۔

دوسری جانب حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل زمینی حقائق تبدیل کرنے اور غزہ پر فوجی کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے کشیدگی میں کمی کی تمام کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

Read Comments