امریکی خلائی کمپنی کا راکٹ ٹیسٹ کے دوران دھماکے سے پھٹ گیا

نیو گلین نامی راکٹ 29 منزلہ عمارت جتنا اونچا ہے، جس کی تیاری پر تقریباً ایک دہائی کا وقت اور اربوں ڈالر خرچ ہوچکے ہیں
شائع 29 مئ 2026 10:48am

امریکی ارب پتی جیف بیزوس کی خلائی کمپنی ’بلیو اوریجن‘ کا بغیر عملے والا ’نیو گلین‘ راکٹ جمعرات کے روز ایک ٹیسٹ کے دوران لانچ پیڈ پر ہی دھماکے سے تباہ ہو گیا۔ اس واقعے کو ’بلیو اوریجن‘ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے جو ایلون مسک کی ’اسپیس ایکس‘ کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور خلائی مشنز میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

امریکی خلائی کمپنی بلیو اوریجن کا ’نیو گلین‘ راکٹ جمعرات کو فلوریڈا میں ایک ٹیسٹ کے دوران لانچ پیڈ پر دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں لانچ پیڈ اور اطراف میں آگ کے شعلے اور آسمان پر دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔

ناسا اسپیس فلائٹ نامی یوٹیوب چینل نے واقعے کی ویڈیو نشر کی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راکٹ نے مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 9 بجے لانچ پیڈ پر آگ پکڑی اور چند ہی لمحوں بعد آگ کے گولے میں تبدیل ہو گیا۔

اس واقعے پر ’بلیو اوریجن‘ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں آج کے ’ہاٹ فائر ٹیسٹ‘ کے دوران ایک ’اناملی‘ (تکنیکی خرابی) کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

’ہاٹ فائر ٹیسٹ‘ اس مرحلے کو کہا جاتا ہے جس میں راکٹ کے انجن کو زمین پر باندھ کر چلایا جاتا ہے تاکہ پرواز سے پہلے اس کی کارکردگی جانچی جا سکے۔

کمپنی نے تصدیق کی کہ تمام عملہ محفوظ ہے اور مزید معلومات ملنے پر اپ ڈیٹس فراہم کی جائیں گی۔

جیف بیزوس نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں اس واقعے کو ایک انتہائی مشکل دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال اس واقعے کی اصل وجہ جاننا قبل از وقت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت مشکل دن ہے، لیکن ہم جو کچھ دوبارہ بنانا پڑا، بنائیں گے اور دوبارہ پرواز کریں گے، کیوں کہ یہ ضروری ہے‘۔

امریکی خلائی ایجنسی ’ناسا‘ کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے بھی ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خلائی پرواز ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل عمل ہے جبکہ وزن لے جانے والے نئے راکٹس کی تیاری غیر معمولی حد تک مشکل کام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ناسا اس واقعے کی مکمل تحقیقات میں اپنے شراکت داروں کی معاونت کرے گا اور اس کے ’آرٹیمس‘ سمیت ’مون بیس‘ پروگرامز پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے گا۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں ہی ناسا نے بلیو اوریجن کو 18 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا ایک کنٹریکٹ دیا تھا، جس کے تحت کمپنی کے بغیر عملے والے کارگو لیونر لینڈر ’مارک 1‘ کے ذریعے چاند کی سطح پر ’روورز‘ پہنچائے جانے تھے۔

یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ’بلیو اوریجن‘ اور ایلون مسک کی ’اسپیس ایکس‘ کے درمیان انسانوں کو چاند پر لے جانے کی دوڑ تیز ہو چکی ہے۔ دونوں کمپنیاں ناسا کے لیے ’لیونر لینڈرز‘ (چاند پر اترنے والے مشن) تیار کر رہی ہیں، جب کہ چین بھی 2030 تک انسان بردار ’مون مشن‘ کی تیاری میں مصروف ہے۔

اسپیس ایکس کو بھی ماضی میں ایسے واقعات کا سامنا رہا ہے۔ گزشتہ سال جون میں کمپنی کا ’اسٹار شپ‘ راکٹ ٹیکساس میں ٹیسٹ کے دوران دھماکے سے تباہ ہو گیا تھا۔

بلیو اوریجن کے دھماکے کی ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے ایلون مسک نے ایکس پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ انتہائی افسوس ناک ہے کیوں کہ راکٹس بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔‘

بلیو اوریجن نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ ’نیو گلین‘ راکٹ کے ذریعے ایمازون کے 48 سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار میں بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ ایلون مسک کے ’اسٹارلنک‘ نیٹ ورک کا مقابلہ کیا جا سکے۔

کمپنی نے اس 29 منزلہ اونچے اور دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ کی تیاری پر تقریباً ایک دہائی کا وقت اور اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، تاکہ اسپیس ایکس کے ’فالکن‘ راکٹس اور زیادہ طاقتور ’اسٹار شپ‘ کا مقابلہ کیا جا سکے۔

دوسری جانب، امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے سے آگاہ ہیں، تاہم یہ ان کے دائرہ کار سے باہر ہے اور اس سے خطے میں ہوائی ٹریفک متاثر نہیں ہوئی۔

Read Comments