کاپی رائٹس تنازع؛ سی این این کا ’اے آئی‘ کمپنی پرپلیکسٹی کے خلاف عدالت سے رجوع
امریکا کے معروف نیوز نیٹ ورک ’سی این این‘ نے مشہور اے آئی (مصنوعی ذہانت) کمپنی ’پرپلیکسٹی‘ کے خلاف کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ سی این این نے الزام عائد کیا ہے کہ پرپلیکسٹی ان کی خبریں اور مواد غیر قانونی طور پر کاپی کر کے صارفین تک پہنچا رہا ہے۔
سی این این کی جانب سے جمعرات کو نیویارک کی ایک عدالت میں دائر مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’پرپلیکسٹی‘ نے بغیر اجازت سی این این کا صحافتی مواد استعمال کیا اور اسے اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے تقسیم کیا۔
مقدمے میں پرپلیکسٹی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے سی این این کی 17 ہزار سے زائد اسٹوریز، تصاویر، ویڈیوز اور دیگر مواد کو اسکریپ کیا اور اسے اپنی مصنوعات کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔
یہ مقدمہ ان قانونی کارروائیوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جو ’دی نیویارک ٹائمز‘ جیسے بڑے اشاعتی اداروں نے ’جنریٹیو اے آئی‘ اسٹارٹ اپس کے خلاف شروع کر رکھی ہیں۔
میڈیا اداروں کا مؤقف ہے کہ چیٹ بوٹس اور دیگر اے آئی ٹولز بڑی تعداد میں خبروں کا مواد صارفین تک پہنچا رہے ہیں، اس لیے اصل صحافتی مواد تخلیق کرنے والے اداروں کو مناسب معاوضہ ملنا چاہیے۔
سی این این کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ مقدمہ اس اصول کی نمائندگی کرتا ہے کہ اربوں ڈالر مالیت رکھنے والی کوئی بھی کمپنی اصل مواد تخلیق کرنے والے اداروں کے کام سے بلا معاوضہ فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عوام دنیا کو سمجھنے کے لیے انسانوں کے معیاری صحافتی مواد پر انحصار کرتے ہیں، جو اکثر خطرناک اور محنت طلب مراحل سے گزر کر تیار کیا جاتا ہے۔ اس لیے تجارتی مقاصد کے لیے اس مواد کے استعمال کی قیمت ادا کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب پرپلکسیٹی کے چیف کمیونیکیشن آفیسر جیسی ڈوائر نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’حقائق پر کاپی رائٹ نہیں ہو سکتا۔‘
نیویارک کی امریکی ضلعی عدالت میں دائر درخواست کے مطابق سی این این نے گزشتہ سال پرپلکسیٹی کے ساتھ مواد کے استعمال سے متعلق معاہدہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم دونوں فریق شرائط پر متفق نہیں ہو سکے تھے۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات سے پہلے اور بعد میں بھی پرپلکسیٹی کو معلوم تھا کہ اسے سی این این کے مواد، ٹریڈ مارکس یا سروس مارکس استعمال کرنے کی اجازت حاصل نہیں ہے۔
سی این این کا کہنا ہے کہ وہ اے آئی کمپنیوں کے ساتھ ’لائسنسنگ معاہدوں‘ کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر کوئی کمپنی اس راستے کو اختیار نہیں کرتی تو پھر قانونی کارروائی کے ذریعے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔
سی این این نے عدالت سے پرپلیکسٹی کو ہرجانے کی ادائیگی اور اس کا مواد استعمال کرنے سے روکنے کی استدعا کی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران نیویارک ٹائمز، شکاگو ٹریبیون، انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا اور جاپانی میڈیا کمپنی ’یومیوری شمبن‘ نے بھی پرپلیکسٹی کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے تاہم اس کے برعکس گینیٹ، ٹائم، لی مونڈے اور ڈیر اسپیگل جیسے نمایاں پبلشرز نے اسی عرصے کے دوران پرپلیکسٹی کے ساتھ باقاعدہ معاہدوں کا اعلان بھی کیا ہے۔