ایران کا امریکا پر سنگین الزام: لبنان حملوں میں اسرائیل کا ’شریکِ جرم‘ قرار دے دیا

ایرانی ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان میں جاری حملے رکوانے کیلئے فوری اقدامات کرے
شائع 29 مئ 2026 05:37pm

ایران نے لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو بھی ان کارروائیوں کا ’شریکِ جرم‘ قرار دے دیا۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ان حملوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی خاموشی اور عالمی اداروں کی بے حسی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہی رویہ اسرائیل کو خطے میں مزید جارحیت پر اکسا رہا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق جمعے کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں اسرائیل کی جانب سے جنوبی بیروت اور لبنان کے دیگر علاقوں پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے خطے میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔

اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل لبنان میں ’بربریت‘ کا مظاہرہ کر رہا ہے جب کہ امریکا ان تمام کارروائیوں میں مکمل طور پر اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نہ صرف لبنان بلکہ فلسطین اور پورے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی اقدامات کا حمایتی اور شریکِ جرم ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوجی حملوں میں شدت آنے کے بعد لبنان میں درجنوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور اسرائیل نے لبنان کے ایک بڑے حصے میں رہنے والے شہریوں کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر شمالی علاقوں کی جانب منتقل ہو جائیں۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان میں جاری حملے رکوانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حملوں کے باعث خطے کا امن شدید خطرے میں پڑ چکا ہے اور صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیلی حملوں کے باعث بنیادی ڈھانچے اور رہائشی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیلی فورسز نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ تاریخی لبنانی شہروں صور، نبطیہ اور صیدا تک وسیع کردیا ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے العالم نیوز نیٹ ورک کے سینئر نمائندے حسام زیدان کی ہلاکت پر ان کے اہل خانہ، العالم میڈیا ادارے اور عالمی صحافتی برادری سے اظہار تعزیت بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران فلسطین اور لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 300 سے زائد صحافی مارے جاچکے ہیں، اس لیے عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی جرائم پر جوابدہ ٹھہرائے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسرائیلی حملوں کے مقابلے میں لبنانی عوام کے صبر اور استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لبنان کی خودمختاری، وقار اور آزادی کے دفاع میں ایران کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

دوسری جانب لبنان کی وزارت صحت کے مطابق مارچ کے آغاز سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 3 ہزار 324 افراد جاں بحق جب کہ 10 ہزار 27 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان اور جنوبی بیروت میں مسلسل بمباری کے باعث ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرق وسطیٰ کے بحران کو مزید وسیع کر سکتی ہے جبکہ امریکا کی حمایت کے الزامات نے سفارتی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔

Read Comments