صدر ٹرمپ نے ایران معاہدے پر حتمی فیصلہ مؤخر کردیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والی ایک اہم میٹنگ کو کسی حتمی فیصلے کے بغیر ختم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے تین ماہ سے جاری ایران جنگ کو عارضی طور پر روکنے کا معاملہ ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔
جمعہ کی سہ پہر ایک امریکی انتظامی اہلکار نے نشریاتی ادارے ’سی این بی سی‘ کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے سامنے معاہدے کے لیے کڑی شرائط رکھنے کے بعد سچویشن روم میں ایک میٹنگ کی لیکن تاحال کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس میٹنگ میں اپنا حتمی فیصلہ کریں گے اور انہوں نے ان تمام چیزوں کی فہرست بھی شیئر کی تھی جو معاہدے کی منظوری کے لیے ایران کو لازمی طور پر کرنی ہوں گی۔
صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پیغام سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کی سخت شرائط میں سے کون سی باتیں اس ابتدائی معاہدے کا حصہ ہیں جس پر امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ایران کو اس بات پر لازمی اتفاق کرنا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا بم نہیں بنائے گا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹیکس یا ٹول کے، دونوں طرف سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے فوری طور پر کھولا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بحیرہ عمان میں ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے کی گئی بحری ناکہ بندی اب ختم کر دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے مزید لکھا کہ گزشتہ سال ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے نتیجے میں زمین کے نیچے دب جانے والے افزودہ مواد، جسے نیوکلیئر ڈسٹ بھی کہا جاتا ہے، اسے امریکا، ایران اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ مل کر زمین سے نکالے گا اور اسے تلف کر دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگلے نوٹس تک کسی قسم کے فنڈز یا رقم کا تبادلہ نہیں ہوگا، جبکہ دیگر کم اہم امور پر اتفاق ہو چکا ہے۔
دوسری طرف، معاہدے کے متن کے حوالے سے دونوں ممالک کے بیانات میں شدید تضادات سامنے آئے ہیں۔
ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے صدر ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے ایسے مسائل اٹھائے ہیں جو معاہدے کے متن میں موجود ہی نہیں ہیں۔
فارس نیوز ایجنسی نے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ٹیلی گرام چینل پر بتایا کہ معاہدے کے مسودے میں آبنائے ہرمز میں ٹیکس نہ لینے کے بارے میں ایسی کوئی شق شامل نہیں ہے اور نہ ہی اس میں ایران کے جوہری مواد کو تلف یا تباہ کرنے کا کوئی ذکر ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، اس معاہدے کا سب سے اہم حصہ امریکا کی طرف سے ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی ہے، اور جب تک یہ رقم ادا نہیں کی جاتی، ایران کسی اگلے مرحلے کے مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔
وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کے بیان اور ایران کے اس جواب پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
تاہم، گزشتہ روز ایک امریکی اہلکار نے ان خبروں کی تصدیق کی تھی کہ دونوں وفود 60 دن کے ایک عارضی معاہدے پر پہنچ چکے ہیں جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی اور آبنائے ہرمز سے 30 دنوں کے اندر بارودی سرنگیں ہٹائی جائیں گی۔
اس سفارتی پیش رفت کے باوجود، خطے میں معاشی اور فوجی تناؤ بدستور برقرار ہے۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے بتایا کہ ایران نے کویت کی طرف ایک بیلسٹک میزائل داغا ہے اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد حملہ آور ڈرون طیارے تعینات کیے ہیں، جبکہ ایرانی میڈیا نے بھی نامعلوم اہداف پر میزائل فائر کرنے کی تصدیق کی ہے۔ اسی دوران امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔
دوسری طرف، ایرانی حکام نے امریکی دھمکیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے عمان سمیت اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
عمان اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے، جس پر صدر ٹرمپ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمان کو بھی باقی سب کی طرح رہنا ہوگا ورنہ ہمیں انہیں تباہ کرنا پڑے گا۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بھی عمان کو وارننگ دی تھی کہ ٹیکس کی سہولت کاری میں ملوث کسی بھی فریق کو بخشا نہیں جائے گا۔
اس دوران ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عمانی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کسی بھی بیرونی دھمکی کے خلاف عمان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں امن قائم کرنے کی سفارتی کوششیں ابھی تک سنگین خطرات اور تضادات کا شکار ہیں۔
اس صورتحال میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان نے مذاکرات کی اصل حقیقت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
قالیباف کے اکاؤنٹ سے لکھا گیا کہ ہم مراعات بات چیت کے ذریعے نہیں بلکہ میزائلوں کے زور پر حاصل کرتے ہیں، مذاکرات میں تو ہم صرف دوسری طرف والے کو اپنی بات سمجھاتے ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ہمیں کسی کے وعدوں یا باتوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے، ہمارے لیے صرف عملی قدم ہی پیمانہ ہے اور جب تک دوسرا فریق پہل نہیں کرے گا، ہماری طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاہدے کا اصل فاتح وہی ہوتا ہے جو معاہدے کے اگلے ہی دن سے جنگ کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار ہو۔