ایران اور امریکا کے درمیان سفارت کاری ناکام ہوئی تو کیا ہوگا؟

سفارت کاری کی ناکامی کا خوف: عالمی معیشت اور یورپ کو سنگین خطرات کا سامنا!
شائع 30 مئ 2026 09:57am

امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات اگرچہ ایک ممکنہ معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں، لیکن تہران کی جانب سے مسلسل ایسے اشارے دیے جا رہے ہیں کہ اگر یہ سفارت کاری ناکام ہوئی اور دونوں ممالک دوبارہ جنگ کی طرف لوٹے، تو اس بار صورتحال ماضی سے بالکل مختلف اور انتہائی بھیانک ہوگی۔

امریکی حکام کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی معاہدہ طے پا چکا ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری کا منتظر ہے، لیکن اس کے باوجود زمینی سطح پر فوجی تناؤ ختم نہیں ہوا ہے۔

اس ہفتے امریکا نے چند ہی دنوں کے اندر ایران پر دوسری بار حملے کیے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بھی دونوں اطراف سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

ایران کے حکام ان مذاکرات کے دوران بھی اس اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں کہ سفارت کاری ناکام ہونے کی صورت میں ان کے پاس فوجی کارروائی کے بڑے متبادل موجود ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کا کہنا ہے کہ کوئی بھی نیا تنازع صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یہ بہت دور تک پھیلے گا اور مخالفین کو ایسے مقامات پر تباہ کن وار اور مکمل بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔

یہ انتباہ ایک ایسی جنگ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران نے امریکی اڈوں، اسرائیلی شہروں اور خلیجی ممالک کے اہم ڈھانچے کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کو بند کر کے پوری دنیا کو توانائی کے بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔

اس حوالے سے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ہماری طرف سے کی جانے والی کسی بھی جوابی کارروائی میں بہت سے نئے سرپرائزز یعنی حیران کن حربے شامل ہوں گے۔

ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی واضح کیا کہ ہماری مسلح افواج نے جنگ بندی کے اس دورانیے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ اعلیٰ ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کے اس سخت بیان کا مقصد مزید حملوں کو روکنا ہے، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو تہران کے پاس صورتحال کو مزید خراب کرنے کے کئی طریقے موجود ہیں۔

چونکہ ایران روایتی جنگ میں امریکا اور اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لیے وہ عالمی معیشت کو نقصان پہنچا کر دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

اس بار ایران آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کے ذریعے باب المندب کے راستے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جہاں سے دنیا کا 10 فیصد سے زائد تیل گزرتا ہے۔

جارج میسن یونیورسٹی کے توانائی کے ماہر امود شکری نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ باب المندب اور آبنائے ہرمز میں ایک ساتھ پیدا ہونے والا بحران انتہائی سنگین ہوگا، جس سے بحیرہ احمر کی تجارت اور خلیج فارس سے تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوگی، اور دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں اور مہنگائی آسمان کو چھونے لگیں گی۔

تاہم، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ باب المندب کو پوری طرح بند کرنا مشکل ہوگا، اس لیے وہاں تجارتی جہاز رانی کو اتنا خطرناک بنا دیا جائے گا کہ کمپنیوں کے لیے کام کرنا ناممکن ہو جائے۔

اگر صدر ٹرمپ نے ایران کی تیل کی ریفائنریوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر عمل کیا، تو ایران خلیجی ممالک کے تیل کے کنوؤں پر براہ راست حملے کر سکتا ہے۔

ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن احمد بخشائیش اردستانی نے ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا ارادہ کچھ ایسا کرنے کا ہے کہ ہمارے پاس تیل نہ رہے، تو ہم ان کی پائپ لائنوں پر حملہ نہیں کریں گے، بلکہ ہم ان کے تیل کے کنوؤں پر حملہ کریں گے تاکہ ان کے پاس بھی تیل نہ رہے اور پوری دنیا کے لیے ایندھن مہنگا ہو جائے۔

اس کے علاوہ ایران خطے کے دیگر ممالک میں پینے کے پانی کے پلانٹس اور سول انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں ابوظہبی کے جوہری پاور پلانٹ اور سعودی عرب پر ڈرون حملوں کی صورت میں دیکھا گیا ہے۔

سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس بار ایران کے حملوں کا دائرہ کار یورپ تک بڑھ سکتا ہے۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو فرزین ندیمی کے مطابق، اگر ایران نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کیا، تو وہ یونان کے جزیرے کریٹ، برطانیہ میں امریکی فضائی اڈوں جیسے آر اے ایف فیر فورڈ، یا جرمنی میں امریکی لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

پیرس کی سائنسز پو یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر نکول گراجیوسکی نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ میں نہیں سمجھتی کہ بحیرہ روم کا علاقہ ایران کی پہنچ سے باہر ہے، یہاں اصل مسئلہ صرف میزائلوں کے نشانے کی درستگی کا ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اگلی بار مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس ڈرون طیاروں کے جھنڈ، آواز کی رفتار سے تیز چلنے والے کروز میزائل اور سیٹلائٹ سگنلز کو جام کرنے والی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کر سکتا ہے تاکہ مغربی ممالک کے دفاعی نظام کو چکمہ دیا جا سکے۔

Read Comments