کہیں آپ کا منہ بانجھ پن کی وجہ تو نہیں بن رہا؟
یروشلم کی ہیبریو یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ منہ اور مسوڑھوں کی دائمی سوزش خواتین میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔
جرنل آف ڈینٹل ریسرچ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، منہ میں طویل عرصے تک موجود رہنے والی سوزش صرف دانتوں یا مسوڑھوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ جسم کے دیگر حصوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جن میں تولیدی نظام بھی شامل ہے۔
اس تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے چوہوں میں دانتوں کے امپلانٹس سے جڑی سوزش کا جائزہ لیا، جو دانتوں کے علاج سے متعلق ایک عام مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ منہ میں پیدا ہونے والی سوزش جسم میں مدافعتی نظام کے مختلف سگنلز کو متحرک کرتی ہے، جو بالآخر بیضہ دانی تک پہنچ جاتے ہیں۔
محققین نے مشاہدہ کیا کہ اس عمل کے نتیجے میں بیضہ دانی میں سوزش پیدا کرنے والے کیمیکلز کی مقدار بڑھ گئی اور مدافعتی خلیات میں بھی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ اس کے علاوہ آکسیڈیٹیو اسٹریس، بیضہ دانی کے ٹشوز کو نقصان، فولیکلز کی ناقص نشوونما اور کم معیار کے انڈے بھی سامنے آئے۔ فولیکلز دراصل بیضہ دانی میں موجود چھوٹی تھیلیاں ہوتی ہیں جن میں انڈے نشوونما پاتے اور بالغ ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ان تبدیلیوں کے نتیجے میں زیرِ مطالعہ جانوروں میں کامیاب پیدائشوں کی تعداد بھی کم ہو گئی۔ سائنس دانوں نے یہ بھی پایا کہ انڈوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچا تھا اور ان میں ایپی جینیٹک تبدیلیاں بھی موجود تھیں، جو جینز کے کام کرنے کے طریقہ کار کو متاثر کرتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈوں میں پائی جانے والی یہ تبدیلیاں ان اثرات سے مشابہ تھیں جو عام طور پر تولیدی عمر بڑھنے کے دوران دیکھے جاتے ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ مسلسل سوزش زرخیزی میں کمی کے عمل کو تیز کر دیتی ہے۔
تحقیق کے سربراہ مائیکل کلوٹسٹین نے کہا کہ سوزش کو اکثر ایک مقامی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ یہ پورے جسم کو متاثر کر سکتی ہے، جس میں تولیدی نظام بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق منہ کی دائمی سوزش خواتین میں بانجھ پن کی ایک ایسی وجہ ہو سکتی ہے جس پر اب تک مناسب توجہ نہیں دی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بڑھتے ہوئے سائنسی ثبوت میں مزید اضافہ کرتے ہیں کہ منہ کی صحت اور مجموعی جسمانی صحت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اس سے پہلے بھی مسوڑھوں کی شدید بیماری، جسے پیریوڈونٹائٹس کہا جاتا ہے، کو دل، دماغ اور میٹابولزم سے متعلق مختلف بیماریوں کے ساتھ جوڑا جا چکا ہے۔ اب سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ تولیدی صحت بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔
تاہم، یہ تحقیق جانوروں پر کی گئی تھی، اس لیے انسانوں کے بارے میں حتمی نتائج اخذ کرنے سے قبل مزید طبی اور کلینیکل تحقیقات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ انسانی مطالعات بھی اسی سمت میں نتائج فراہم کرتے ہیں تو منہ کی صحت کو زرخیزی کے حوالے سے ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔