کبوتروں کا جگر گھر کا راستہ ڈھونڈنے میں کیسے مدد کرتا ہے؟

ایک حیران کن دریافت: کیا کبوتروں کا راستہ ڈھونڈنے کا راز جگر میں ہے؟ یہ سگنلز دماغ تک کیسے پہنچتے ہیں؟
شائع 30 مئ 2026 12:18pm

کبوتروں کی غیرمعمولی صلاحیت کہ وہ سینکڑوں کلومیٹر دور سے بھی اپنا راستہ تلاش کر لیتے ہیں، یہ صلاحیت طویل عرصے سے سائنس دانوں کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی تھی۔ اب ایک نئی تحقیق نے اس راز کے بارے میں ایک حیران کن انکشاف کیا ہے، جس کے مطابق کبوتروں کے جگر میں موجود مخصوص خلیات ان کی سمت شناسی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دنیا بھر کے جانور اپنے راستے تلاش کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔ بعض جانور ستاروں کی مدد لیتے ہیں جبکہ کچھ اہم نشانیوں کو یاد رکھتے ہیں۔ پرندے، مچھلیاں اور کچھوے زمین کے مقناطیسی میدان کو ایک قدرتی کمپاس کے طور پر استعمال کرتے ہیں، لیکن سائنس دان اب تک پوری طرح یہ نہیں سمجھ سکے کہ یہ عمل دراصل کیسے ہوتا ہے۔

کبوتر ان پرندوں میں شامل ہیں جو طویل فاصلے طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ ایک ہی دن میں سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کر سکتے ہیں۔ ہزاروں سال سے انسان کبوتروں کو خبریں، خطوط اور فوجی پیغامات پہنچانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی سمت شناسی کی صلاحیت ہمیشہ تحقیق کا مرکز رہی ہے۔

ماضی میں بعض ماہرین کا خیال تھا کہ کبوتر اپنی آنکھوں میں موجود روشنی کے حساس مالیکیولز کے ذریعے مقناطیسی اشاروں کو محسوس کرتے ہیں۔ کچھ دیگر سائنس دانوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ صلاحیت چونچ یا اندرونی کان میں موجود کسی نظام سے وابستہ ہو سکتی ہے۔

جرمنی میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل بیہیویئر سے وابستہ سائنس دان مارٹن ویکلسکی کے مطابق مقناطیسی حس تقریباً ایک صدی سے سائنس کے لیے ایک پراسرار موضوع بنی ہوئی ہے۔

نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے کبوتروں کے مختلف اعضا کا جائزہ لیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ مقناطیسی اشارے کہاں محسوس کیے جاتے ہیں۔ حیران کن طور پر سب سے مضبوط مقناطیسی اشارہ جگر میں پایا گیا۔

تحقیق کے مطابق کبوتروں کے جگر میں موجود مخصوص مدافعتی خلیات پرانے سرخ خون کے خلیات کو توڑتے ہیں اور آئرن کو ذخیرہ کرتے ہیں۔ سائنس دانوں نے تجرباتی طور پر ان مدافعتی خلیات کو عارضی طور پر غیر فعال کیا اور پھر کبوتروں کو اڑایا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ پرندے اپنا راستہ تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔

جرمنی کی یونیورسٹی آف بون سے تعلق رکھنے والے محقق کرسچین کرٹس کا کہنا ہے کہ جب یہ خلیات موجود نہیں تھے تو کبوتر درست سمت کا تعین نہیں کر پا رہے تھے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوا کہ جگر میں موجود آئرن سے بھرپور خلیات ان کی سمت شناسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کبوتروں کا مقناطیسی کمپاس زیادہ تر ابر آلود دنوں میں متاثر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کبوتر راستہ تلاش کرنے کے لیے سورج کی روشنی کو بھی بطور رہنما استعمال کرتے ہیں۔ صاف موسم میں وہ سورج کی مدد سے اپنی سمت برقرار رکھ سکتے ہیں، لیکن بادلوں کی موجودگی میں مقناطیسی نظام کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے ”سائنس“ میں شائع ہوئی ہے اور اس میں پہلی بار ایک مکمل نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ مدافعتی خلیات مقناطیسی حس میں کس طرح شامل ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ اس نظریے نے ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے، لیکن کئی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کی مزید تصدیق کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹی آف میساچوسٹس بوسٹن کے ماہر ماحولیات البرٹ کاؤ نے کہا کہ ابتدا میں یہ خیال غیر متوقع لگا، لیکن وضاحت سننے کے بعد یہ معقول محسوس ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق جگر میں موجود یہ مدافعتی خلیات اعصابی ریشوں کے قریب واقع ہوتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہی اعصابی رابطے مقناطیسی معلومات دماغ تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں، جس سے کبوتر اپنی سمت کا تعین کر پاتے ہیں۔

سائنس دانوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ دیگر پرندے اور بعض جانور، جیسے چوہے، بھی اسی طرح کے نظام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم بیرونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی مزید تحقیق درکار ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ سگنلز دماغ تک کیسے پہنچتے ہیں اور آیا واقعی یہی نظام راستہ تلاش کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے مدافعتی خلیات صرف جگر میں ہی نہیں بلکہ چونچ اور تلی جیسے دیگر اعضا میں بھی پائے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مقناطیسی حس کا یہ معمہ شاید کسی ایک جواب تک محدود نہ ہو۔

تحقیق کے ساتھ شائع ہونے والے ایک اداریے میں ماہرین نے لکھا کہ ممکن ہے کبوتر مختلف حالات میں مختلف طریقوں سے مقناطیسی میدان کو محسوس کرتے ہوں۔ مثال کے طور پر طویل فاصلے کے سفر اور کسی مخصوص مقام کی تلاش کے دوران وہ الگ الگ نظام استعمال کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق قدرت نے شاید ان پرندوں کو گھر واپسی کے ایک سے زیادہ طریقے دیے ہیں، تاکہ مشکل حالات اور کم روشنی میں بھی وہ اپنا راستہ تلاش کر سکیں۔

Read Comments