200 یونٹ والے بجلی صارفین کی سبسڈی ختم نہیں کی جا رہی، اویس لغاری

اس حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، نیوز کانفرنس
شائع 31 مئ 2026 05:06pm

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے واضح کیا ہے کہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے گردشی قرضے اور نقصانات میں نمایاں کمی کی ہے، جبکہ لاکھوں صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بدستور سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 200 یونٹ والے صارفین کی تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور سبسڈی کی مد میں ایک مخصوص رقم بجلی کے بل میں شامل کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے صارفین کے بجلی کے بلوں پر کیو آر کوڈ موجود ہے، جس کے ذریعے اب تک 20 لاکھ صارفین فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کا ڈیٹا بھی جمع کیا جا رہا ہے تاکہ نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بعض بڑے سولر سسٹم رکھنے والے صارفین بھی اپنی کھپت 200 یونٹ سے کم ظاہر کرکے سبسڈی حاصل کر رہے ہیں، جس سے متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے نتیجے میں 780 ارب روپے کا گردشی قرضہ کم کیا ہے۔ اس کے علاوہ آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی سے 3500 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈسکوز کے نقصانات میں گزشتہ ایک سال کے دوران 193 ارب روپے کی کمی لائی گئی ہے، جو بجلی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

اویس لغاری کے مطابق ملک میں اس وقت بجلی کی مجموعی پیداوار 36 ہزار میگاواٹ ہے، جبکہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سولرائزیشن کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ڈیم سمیت اہم آبی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جو ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Read Comments