ایران نے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا، امریکی میڈیا کا دعویٰ

ایران کی زیرِ زمین تنصیبات کئی سو میٹر گہری چٹانوں کے نیچے قائم ہونے وجہ سے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنا آسان نہیں، سی این این کی رپورٹ
اپ ڈیٹ 31 مئ 2026 10:23pm

سی این این کی رپورٹ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی میں کامیابیوں کے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تباہ ہونے والے اپنے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے تباہ شدہ زیرِ زمین میزائل تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لیے تیزی سے کام کیا اور بھاری مشینری، بلڈوزرز اور ڈمپ ٹرکوں کی مدد سے بند سرنگوں اور راستوں کو کھول دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے جنگ کے دوران ایران کے زیرِ زمین میزائل اڈوں کے داخلی راستے تباہ کرکے اس کی میزائل صلاحیت محدود کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے متعدد مقامات پر بحالی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

سی این این کے مطابق ایران نے 18 زیرِ زمین میزائل تنصیبات پر حملوں کے بعد بند ہونے والے 69 میں سے 50 سرنگی راستے دوبارہ کھول دیے ہیں، جبکہ کئی تباہ شدہ سڑکیں بھی مرمت یا دوبارہ تعمیر کر دی گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ کشیدگی یا حملے شروع ہوئے تو ایران اب بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جیمز مارٹن سینٹر فار نان پرولیفریشن اسٹڈیز سے وابستہ تجزیہ کار سیم لیئر کے مطابق ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں میزائل موجود ہیں اور جب تک لانچرز اور عملہ موجود ہے، ایران میزائل فائر کرتا رہ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی زیرِ زمین تنصیبات کئی سو میٹر گہری چٹانوں کے نیچے قائم ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنا آسان نہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جنگ کے دوران ایران مسلسل خطرات کے باوجود سرنگوں کی کھدائی اور بحالی میں مصروف رہا، جبکہ امریکا اور اسرائیل اکثر ان مشینوں کو بھی نشانہ بناتے رہے جو ملبہ ہٹانے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کے دوران بارہا ایران کے میزائل پروگرام کو بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ایران کی میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کرنا جنگ کے اہم اہداف میں شامل بتایا تھا۔

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے سی این این کی رپورٹ پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ترجمان شان پارنل نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے اور وہ کسی بھی وقت کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایران کے پاس اب بھی تقریباً ایک ہزار میزائل زیرِ زمین تنصیبات میں محفوظ موجود ہیں، جبکہ ایران کا میزائل نیٹ ورک بڑی حد تک دوبارہ فعال ہو چکا ہے۔

Read Comments