بجٹ 27-2026: پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کم کرنے کی تیاری
حکومت ملک میں ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو فروغ دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سرگرم ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ایک بڑے ریلیف کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے تحت جائیداد کی خرید و فروخت پر لگنے والے ود ہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پراپرٹی کی خرید و فروخت کے لیے قانون کی شق 236 ’کے‘ اور ’سی‘ کے تحت ٹیکسوں میں کمی کی تجویز ہے۔
اس نئے منصوبے کے تحت فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.25 فیصد، جبکہ فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے گھٹا کر 1.5 فیصد کیا جا سکتا ہے۔
حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف کو بھی اس ٹرانزیکشن ٹیکس میں کمی کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ پراپرٹی کے لین دین میں ٹیکس کم کرنے سے اس کاروبار میں اضافہ ہوگا اور حکومت کو زیادہ ٹیکس حاصل ہو سکے گا۔
تاہم، یہ ریلیف صرف فائلرز کے لیے ہوگا اور آئندہ بجٹ میں نان فائلر کے لیے پراپرٹی خریدنے یا بیچنے پر کوئی ریلیف نہیں ملے گا، بلکہ ان کے لیے ٹیکس 10.5 فیصد کی اونچی سطح پر ہی برقرار رہے گا۔
دوسری جانب، وزارتِ خزانہ کے ذرائع نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی تفصیلات بھی فراہم کی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس پانچ جون کی شام کو ہوگا جس میں سالانہ بجٹ پیش کیا جائے گا۔
اس سے قبل، تین جون کو نیشنل اکنامک کونسل کا اجلاس ہوگا جس میں سرکاری ترقیاتی پروگرام یعنی پی ایس ڈی پی کی منظوری دی جائے گی، جبکہ چار جون کو ملک کا اقتصادی سروے پیش کیا جائے گا۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 171 کھرب روپے متوقع ہے، جس میں ملک کی معاشی ترقی کا ہدف 4.1 فیصد اور مہنگائی کی شرح کا تخمینہ 8.4 فیصد رکھا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، نئے بجٹ میں ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 152 کھرب 67 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جبکہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں 17 کھرب 27 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف ہے۔
اس کے علاوہ، ترقیاتی کاموں کے لیے 11 کھرب روپے مختص کرنے کی توقع ہے، جبکہ سود کی ادائیگی کے لیے 78 کھرب 24 ارب روپے اور دفاعی اخراجات کے لیے 26 کھرب 65 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔