آئس کریم کھانے سے سر درد کیوں ہوتا ہے؟ وجہ سامنے آگئی

تحقیقات کے مطابق مائیگرین کے شکار افراد میں 'برین فریز' زیادہ شدت سے محسوس ہو سکتا ہے۔
شائع 01 جون 2026 12:51pm

گرمیوں کے موسم میں جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر چلا جاتا ہے تو لوگ ٹھنڈی اشیاء جیسے آئس کریم، قلفی یا برف والے مشروبات کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ٹھنڈی چیز کا ایک بڑا بائٹ لیتے ہی سر میں ایک تیز لہر اٹھتی ہے اور پھر خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔ عام طور پر اسے ”برین فریز“ کہا جاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ چند سیکنڈز کا یہ درد آخر ہوتا کیوں ہے؟

طبی زبان میں اسے ’آئس کریم ہیڈیک‘ یا یا ’اسفینو پیلاٹائن گینگلیون‘ کہا جاتا ہے۔ ہارورڈ میڈیکل سکول کی تحقیق کے مطابق، یہ درد دراصل ہمارے جسم کا ایک حیرت انگیز دفاعی نظام ہے جو دماغ کو اچانک درجہ حرارت گرنے سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب کوئی انتہائی ٹھنڈی چیز ہمارے تالو کے پچھلے حصے کو چھوتی ہے، تو وہاں موجود خون کی نالیاں فوری طور پر سکڑ جاتی ہیں۔

دماغ اس اچانک درجہ حرارت میں کمی کو ممکنہ خطرے کے طور پر محسوس کرتا ہے اور متاثرہ حصے کو دوبارہ گرم کرنے کے لیے زیادہ خون وہاں بھیج دیتا ہے۔ یہ جسم کا ایک حفاظتی ردعمل ہوتا ہے جس کا مقصد حساس بافتوں کو سردی سے محفوظ رکھنا ہے۔

خون کی نالیاں پہلے تیزی سے سکڑتی ہیں اور پھر اچانک پھیل جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی تیز تبدیلی درد کی بنیادی وجہ بنتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسئلہ منہ میں پیدا ہوتا ہے لیکن درد سر میں محسوس ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسفینوپیلاٹائن گینگلیون چہرے کے ایک بڑے اعصابی نیٹ ورک، ٹرائی جیمینل نرو، کے قریب واقع ہوتا ہے۔ یہی اعصاب پیشانی اور کنپٹیوں سے بھی سگنلز دماغ تک پہنچاتے ہیں۔

جب گینگلیون درد کا سگنل بھیجتا ہے تو دماغ بعض اوقات اس کی اصل جگہ کو درست طور پر نہیں پہچان پاتا اور درد کو منہ کے بجائے پیشانی میں محسوس کرتا ہے۔ طب کی زبان میں اس کیفیت کو ”ریفرڈ پین“ کہا جاتا ہے۔

عام طور پر برین فریز کا درد 20 سے 30 سیکنڈ کے اندر اپنی شدت پر پہنچتا ہے اور پھر خون کی نالیوں کے معمول پر آنے کے ساتھ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تالو سے لگانے یا کوئی گرم مشروب پینے سے متاثرہ حصہ جلد گرم ہو جاتا ہے، جس سے درد جلد کم ہو سکتا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جو افراد مائیگرین یعنی آدھے سر کے درد کا شکار ہوتے ہیں، انہیں برین فریز نسبتاً زیادہ اور شدید محسوس ہو سکتا ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ دونوں کیفیات میں اعصابی راستوں کا کچھ حصہ مشترک ہو سکتا ہے۔

سائنس دان برین فریز کا مطالعہ اس لیے بھی کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جسے لیبارٹری میں محفوظ طریقے سے پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے خون کی نالیوں سے متعلق سر درد کے طریقہ کار کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگلی بار اگر قلفی یا آئس کریم کھاتے ہوئے چند لمحوں کے لیے سر میں تیز درد محسوس ہو تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ دماغ کی خرابی نہیں بلکہ جسم کا ایک قدرتی حفاظتی نظام ہے جو سردی کے اثرات سے حساس حصوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

Read Comments